Al-Risala · December 1979 · page 14

کائنات کی ثانیاں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۴

کائنات کی ثانیاں

وہ پتھر اور لکڑی کو کوٹ میں کر ملا دو تو پٹرول بن جائے گا۔ اس قسم کی بات بظاہر باطل مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔ یقیناً انسان اس طرح کا کوئی واقعہ ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ مگر اسی قسم کے اس سے زیادہ عجیب واقعات اس دنیا میں ہر دن ظہور میں آرہے ہیں۔ قدرت کی کیمسٹری ہر دن ایسے بے شمار واقعات ظہور میں لاتی ہے جو انسان کے لئے صرف ایک ناقابل فہم عجوبہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آکسیجن اور ہائیڈروجن دو گیسیں ہیں۔ قدرت ان کو ایک خاص تناسب سے ملاتی ہے تو ان کا مجموعہ پانی جیسے سفید سیال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ کاربن کے ساتھ کچھ نمکیات اور معدنیات جمع ہوتی ہیں تو زندگی وجود میں آ جاتی ہے۔ مقناطیسی فیلڈ اور حرکت کو یکجا کیا جاتا ہے تو بجلی جیسی حیرت ناک طاقت پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح مقناطیسی فیلڈ اور بجلی کو اکٹھا کیا جاتا ہے تو انتہائی تیز حرکت وجود میں آ جاتی ہے۔ ایک بیج کو مٹی میں ملا دیا جاتا ہے تو اس سے لکڑی اور پتی اور پھول اور پھل کا ایک مجموعہ نکل کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ وغیرہ، وغیرہ اس قسم کے بے شمار کرشمے کائنات میں ہر لمحہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ انسان ان کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ نہ خود ان چیزوں میں اپنے آپ کو ظہور میں لانے کی طاقت ہے اور نہ انسان اس پر قادر ہے کہ وہ بطور خود کسی واقعہ کو پیدا کر سکے۔ "پھر یہ سب کیسے ہو رہا ہے،" اس سوال کے جواب میں وہ کہہ دیتا ہے کہ یہ سب خدا کا انش ہے۔ یہ خود خدا ہے جو ان گنت صورتوں میں اپنے آپ کو ظاہر کر رہا ہے۔

قرآن اس قسم کے جواب کو گم راہی قرار دیتا ہے۔ قرآن کے نزدیک یہ چیزیں خدا کا انش نہیں بلکہ خدا کا حکم ہیں۔ خدا نے اپنی قدرت سے ان کو پیدا کیا ہے۔ نہ کہ خود خدا ان کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ستارے "قدیم زمانہ سے شعراء کے حسین تخیلات کا مرکز رہے ہیں۔ "چاند" کو انسان دیوتا کے روپ میں دیکھتا رہا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ستارے ہیبت ناک آگ کے شعلے ہیں اور چاند اور دوسرے سیارے محض خشک چٹانیں جن پر پانی کا ایک قطرہ یا درخت کا ایک پتہ بھی نہیں۔ کائنات انتہائی وسیع ہونے کے باوجود انسان جیسی مخلوق کے لئے انتہائی طور پر غیر موافق ہے۔ ساری معلوم کائنات میں صرف زمین ہی ایک ایسا کرہ ہے جہاں انسان زندہ رہتا ہے اور تمدن کی تعمیر کرتا ہے۔ بے حد وسیع کائنات میں زمین کا استثنار واضح طور پر ایک ذی شعور ہستی کے وجود کا ثبوت ہے جس نے بالارادہ زمین پر استثنائی حالات پیدا کیے۔ سائنس داں تقریباً نصف صدی سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ خلا میں زمین سے ملتے جلتے دوسرے کرے دریافت کریں تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ہماری زمین کا عائنا تی استثنار نہیں ہے بلکہ اس طرح کے حالات کم یا زیادہ دوسرے کروں پر بھی پائے جاتے ہیں۔ بالفاظ دیگر، زمین کا خالق قانون ارتقا ہے نہ کہ کوئی خدا۔ مگر یہ تلاش کھرب ہا کھرب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ابھی تک ناکامی کے سوا کسی اور مقام تک نہ پہنچ سکی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page