Al-Risala · December 1979 · page 26

البقرہ ۲

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۶

تذکیر القرآن البقرہ ۲ اور لوگوں میں کوئی ہے کہ اس کی بات دنیا کی زندگی میں تم کو خوش لگتی ہے اور وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہے، حالاں کہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔ اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتیوں اور جانوں کو ہلاک کرے۔ حالاں کہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو وقار اس کو گناہ پر جما دیتا ہے۔ پس ایسے شخص کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ اور لوگوں میں سے کوئی ہے کہ اللہ کی خوشی کی تلاش میں اپنی جان کو بیچ دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔ ۲۰۴ - ۲۰۶ جو شخص مصلحت کو اپنا دین بنائے اس کی باتیں ہمیشہ لوگوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کی پسند کو دیکھ کر اس کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ یہ دیکھ کر کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ اس کے سامنے کوئی مستقل معیار نہیں ہوتا اس لیے وہ مخاطب کی رعایت سے ہر وہ انداز اختیار کر لیتا ہے جو مخاطب پر اثر ڈالنے والا ہو۔ حق کا وفادار نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے یہ مشکل نہیں رہتا کہ دل میں کوئی حقیقی جذبہ نہ ہوتے ہوئے بھی وہ زبان سے خوبصورت باتیں کرے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بات کے اسٹیج پر وہ مصلح کے روپ میں نظر آتا ہے اور عمل کے میدان میں اس کی سرگرمیاں فساد کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس کی وجہ اس کا تضاد ہے۔ عملی نتائج ہمیشہ عمل سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ الفاظ سے۔ وہ اگرچہ زبان سے حق پرستی کے الفاظ بولتا ہے۔ مگر عمل کے اعتبار سے وہ جس سطح پر ہوتا ہے وہ صرف ذاتی مفاد ہے۔ یہ چیز اس کے قول وعمل میں فرق پیدا کر دیتی ہے۔ بات کے مقام سے ہٹ کر جب وہ عمل کے مقام پر آتا ہے تو اس کے مفاد کا تقاضا کھینچ کر اس کو ایسی سرگرمیوں کی طرف لے جاتا ہے جو صرف تخریب پیدا کرنے والی ہیں۔ یہاں وہ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر دوسروں کا استحصال کرتا ہے۔ وہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو جذباتی باتوں کی شراب پلاتا ہے۔ وہ اپنی قیادت قائم کرنے کی خاطر پوری قوم کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ وہ تعمیر کے بجائے تخریب کی سیاست چلاتا ہے کیوں کہ اس طرح زیادہ آسانی سے عوام کی بھیڑ اپنے گرد اکٹھا کی جاسکتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کے مفاد اور مصلحت کے ساتھ اپنی زندگی کا سودا کیا۔ حق واضح ہو جانے کے بعد بھی وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کیوں کہ اس میں ان کو اپنے وقار کا بت ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ ظاہری طور پر نرم باتوں کے پیچھے ان کی حکیمانہ نفسییات ان کو ایک ایسے داعی حق کے سامنے جھکنے سے روک دیتی ہے جس کو وہ اپنے سے چھوٹا سمجھتے ہیں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو اللہ کی رضا کے ساتھ اپنی زندگی کا سودا کرتے ہیں۔ ایسا شخص اپنے عادات وخیالات سے دست بردار ہو کر خدا کی باتوں کو قبول کرتا ہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے حوالے کر کے اس کے بدلے بے مال بن جانے کو گوارا کر لیتا ہے۔ وہ نداجی دین کو رد کر کے خدا کے بے آمیز دین کو لیتا ہے، خواہ اس کی وجہ سے اس کو غیر مقبولیت پر راضی ہونا پڑے۔ وہ مصلحت پرستی کے بجائے اعلان حق کو اپنا شیوہ بناتا ہے، اگرچہ اس کے نتیجہ میں وہ لوگوں کے عتاب کا شکار ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page