Al-Risala · December 1979 · page 27

البقرہ ۲

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۷

تذکیر القرآن

اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں پر مت چلو، وہ تمھار اکھلا ہوا دشمن ہے۔ اگر تم پھسل جاؤ بعد اس کے کہ تمھارے پاس واضح دلیلیں آچکی ہیں تو جان لو کہ اللہ زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔ کیا لوگ اس انتظار میں ہیں کہ اللہ بادل کے سائبانوں میں آئے اور فرشتے بھی آ جائیں اور معاملہ کا فیصلہ کر دیا جائے اور سارے معاملات اللہ ہی کی طرف پھیرے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے ان کو کتنی کھلی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو شخص اللہ کی نعمت کو بدل ڈالے جب کہ اس کے پاس آچکی ہو تو اللہ یقیناً سخت سزا دینے والا ہے۔ خوش نما کر دی گئی ہے دنیا کی زندگی ان لوگوں کی نظر میں جو منکر ہیں اور وہ ایمان والوں پر ہنستے ہیں۔ حالاں کہ جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان کے مقابلہ میں اونچے ہوں گے۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب روزی دے دیتا ہے۔ ۱۲ - ۲۰۸ اسلام کو اختیار کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ تحفظات اور مصلحتوں کا لحاظ کئے بغیر اس کو اپنایا جائے ۔ اسلام جس چیز کو کرنے کو کہے اس کو کیا جائے اور جس چیز کو چھوڑنے کو کہے اس کو چھوڑ دیا جائے ۔ یہ کسی آدمی کا پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اسلام کو اسی حد تک اختیار کرے جس حد تک اسلام اس کی زندگی سے ٹکراتا نہ ہو ۔ وہ اس اسلام کو لے جو اس کے لئے مفید یا کم از کم بے ضرر ہو اور اس اسلام کو چھوڑے رہے جو اس کے محبوب عقائد، اس کی پسندیدہ عادات، اس کے دنیوی فائدے، اس کے شخصی وقار، اس کی قائدانہ مصلحتوں کو مجروح کرتا ہو۔ آدمی ابتداءً پوری طرح ارادہ کر کے اسلام کو اختیار کرتا ہے۔ مگر جب وہ وقت آتا ہے کہ وہ اپنے فکری ڈھانچہ کو توڑے یا اپنے مفاد کو نظر انداز کر کے اسلام کا ساتھ دے تو وہ پھسل جاتا ہے۔ وہ ایسے اسلام پر ٹھہر جاتا ہے جس میں اس کے مفادات بھی مجروح نہ ہوں اور اسلام کا تمغہ بھی ہاتھ سے جانے نہ پائے۔ اسلام کے پیغام کی صداقت پر یقین کرنے کے لئے اگر وہ دلائل چاہتے ہیں تو دلائل پوری طرح دئے جا چکے ہیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کو معجزات دکھائے جائیں تو جو شخص کھلے کھلے دلائل کو نہ مانے اس کو چپ کرنے کے لئے معجزات بھی ناکافی ثابت ہوں گے۔ اس کے بعد آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ یہ کہ خدا اپنے فرشتوں کے ساتھ سامنے آجائے۔ مگر جب ایسا ہوگا تو وہ کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ فیصلہ کا وقت ہوگا نہ کہ عمل کرنے کا۔ انسان کا امتحان یہی ہے کہ وہ دیکھے بغیر محض دلائل کی بنیاد پر مان لے۔ اگر اس نے دیکھ کر مانا تو اس ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔ وہ لوگ جو مصلحتوں کو نظر انداز کر کے اسلام کو اپنائیں اور وہ لوگ جو مصلحتوں کی رعایت کرتے ہوئے مسلمان بنیں، دونوں کے حالات یکساں نہیں ہوتے۔ پہلا گروہ اکثر دنیوی اہمیت کی چیزوں سے خالی ہو جاتا ہے جب کہ دوسرے گروہ کے پاس قسم کی دنیوی رونقیں جمع ہو جاتی ہیں۔ یہ چیز دوسرے گروہ کو غلط فہمی میں ڈال دیتی ہے۔ وہ اپنے کو بر تر خیال کرتا ہے اور پہلے گروہ کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ مگر یہ صورت حال انتہائی عارضی ہے۔ موجودہ دنیا کو توڑ کر جب نیا بہتر نظام نے گاتو وہاں آج کے بڑے پست کر دئے جائیں گے اور وہی لوگ بڑائی کے مقام پر نظر آئیں گے جن کو آج چھوٹا سمجھ لیا گیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page