Al-Risala · December 1979 · page 28

البقرہ ۲

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۸

تذکیر القرآن البقرہ ۲ لوگ ایک امت تھے۔ انھوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے پیغمبروں کو بھیجا خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے، اور ان کے ساتھ اتاری کتاب حق کے ساتھ تاکہ وہ فیصلہ کر دے ان باتوں کا جن میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔ اور یہ اختلافات انھیں لوگوں نے کیے جن کو حق دیا گیا تھا، بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات آ چکی تھیں، آپس کی ضد کی وجہ سے۔ پس اللہ نے اپنی توفیق سے حق کے معاملے میں ایمان والوں کو راہ دکھائی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات گزرے ہی نہیں جو تمھارے اگلوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ یاد رکھو، اللہ کی مدد قریب ہے دین میں اختلاف تعبیر و تشریح کے اختلاف سے شروع ہوتا ہے۔ ہر ایک اپنے ذہنی سانچے کے مطابق خدا کے دین کا ایک تصور قائم کر لیتا ہے۔ ایک ہی کتاب ہدایت کو مانتے ہوئے بھی لوگوں کی رائیں الگ الگ ہو جاتی ہیں۔ اس وقت اللہ اپنے چنے ہوئے بندے کے ذریعہ امر حق کا اعلان کراتا ہے۔ یہ آواز اگر چہ انسان کی زبان میں ہوتی ہے اور بظاہر عام آدمیوں جیسے ایک آدمی کے ذریعہ بلند کی جاتی ہے۔ تاہم جو سچے متلاشی حق ہیں وہ اس کے اندر شامل خدائی گونج کو پہچان لیتے ہیں اور اپنے اختلاف کو بھول کر فورا اس کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو اپنے خود ساختہ دین کے ساتھ اپنے کو اتنا زیاوہ وابستہ کر چکا ہوتا ہے کہ اس کے اندر یہ جذبہ ابھر آتا ہے کہ میں دوسرے کی بات کیوں مانوں۔ اس کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اسی چیز کا انکار کر دیتا ہے جس کا وہ اپنے خیال کے مطابق علم بردار بنا ہوا تھا۔

حق جب روشن دلائل کے ساتھ آ جائے اور اس کے با وجود آدمی اس کا ساتھ نہ دے تو اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی کو نظر آتا ہے کہ اس کا ساتھ دینے میں اس کی خوش گمانیوں کا محل ڈھ جائے گا۔ اس کے مفادات کا نظام ٹوٹ جائے گا۔ اس کی آسودہ زندگی خطرہ میں پڑ جائے گی۔ اس کا وقار باقی نہیں رہے گا۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو اللہ کو اپنے وفادار بندوں سے مطلوب ہے۔ جس راستہ کی دشواریوں سے گھبرا کر آدمی اس پر آنا نہیں چاہتا ہی وہ راستہ ہے جو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ جنت کی واحد قیمت آدمی کا اپنا وجود ہے۔ آدمی اپنے وجود کو فکر و عمل کے جن نقشوں کے حوالے کئے ہوئے ہے وہاں سے اکھاڑ کر جب وہ اس کو خدا کے نقشہ میں لانا چاہتا ہے تو اس کی پوری شخصیت ہل جاتی ہے۔ اس میں اس وقت اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے جب کہ اس کے ساتھ دہ خدا کے دین کا داعی بن کر کھڑا ہو جائے ۔ داعی بننا بالفاظ دیگر دوسروں کے اوپر ناصح اور ناقد بننا ہے اور اپنے خلاف نصیحت اور تنقید کو سننا ہر زمانہ میں انسان کے لیے مبغوض ترین امر رہا ہے۔ اس کے نتیجہ میں مدعو کی طرف سے اتنا شدید رد عمل سامنے آتا ہے ، جو داعی کے لیے ایک بھو نچال سے کم نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page