Al-Risala · December 1979 · page 29

البقرہ ۲

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۹

البقره ۲ تذکیر القرآن لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو تو اسی میں حق ہے تمھارے ماں باپ کا اور رشتہ داروں کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا۔ اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کو معلوم ہے۔ تم پر لڑائی کا حکم ہوا ہے اور وہ تم کو گراں معلوم ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمھارے لئے بھلی ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لئے بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ ۱۷ - ۲۱۵ ۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کے جان اور مال کے استعمال کا بہترین مصرف اس کے بیوی بچے ہیں، وہ اپنے اثاثہ کو اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں میں لٹا کر خوش ہوتا ہے۔ اس کے برعکس شریعت کہتی ہے کہ اپنے جان اور مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دو۔ یہ دونوں مدیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک خود اپنے اوپر خرچ کرنا ہے اور دوسرا غیروں کے اوپر۔ ایک اپنی طاقت کو دنیا کی ظاہری چیزوں کے حصول پر لگاتا ہے اور دوسرا آخرت کی نظر نہ آنے والی چیزوں پر۔ مگر انسان کو جو چیز ناپسند ہے وہی اللہ کی نظر میں بھلائی ہے۔ کیوں کہ اس کی اگلی وسیع تر زندگی میں اس کو نفع دینے والی ہے۔ اور انسان کو جو چیز پسند ہے وہ اللہ کی نظر میں برائی ہے کیوں کہ اس کا جو کچھ فائدہ ہے اسی عارضی دنیا میں ہے، آخرت میں اس سے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔ یہی اصول زندگی کے تمام معاملات کے لئے صحیح ہے ۔ آدمی آزاد اور بے قید زندگی کو پسند کرتا ہے، حالاں کہ اس کی بھلائی اس میں ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی رسی میں باندھ کر رکھے۔ آدمی اپنی تعریف کرنے والے کو دوست بناتا ہے، حالاں کہ اس کے لئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اس شخص کو اپنا دوست بنائے جو اس کی غلطیوں کو اسے بتاتا ہو۔ آدمی ایک حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس طرح اس نے لوگوں کی نظر میں اپنے وقار کو بچا لیا۔ حالاں کہ اس کے لئے زیادہ بہتر یہ تھا کہ وہ اپنی عزت کو خطرہ میں ڈال کر کھلے دل سے حق کا اعتراف کرلے۔ آدمی محنت اور قربانی والے دین سے بے رغبت رہتا ہے اور اس دین کو لے لیتا ہے جس میں معمولی باتوں پر جنت کی خوش خبری مل رہی ہو۔ حالاں کہ اس کے لئے زیادہ بہتر تھا کہ وہ محنت اور قربانی والے دین کو اختیار کرتا۔ آدمی ”زندگی“ کے مسائل کو اہمیت دیتا ہے، حالاں کہ زیادہ بڑی عقل مندی یہ ہے کہ آدمی ”موت“ کے مسائل کو اہمیت دے۔

”اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ان سطحی جذبات و محرکات سے بلند ہے جن سے بلند نہ ہونے کی وجہ سے انسان کی رائے متاثر رائے بن جاتی ہے، وہ صحیح رخ کو چھوڑ کر غلط رخ کی طرف مڑ جاتا ہے۔ اللہ کا فیصلہ ہر قسم کی غیر متعلق چیزوں کی ملاوٹ سے پاک ہے۔ وہ بے آمیز فیصلہ ہے۔ اس لئے اس کے برحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ انسان کے فیصلے طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے مغلوب رہتے ہیں۔ وہ پست محرکات کے زیر اثر رائیں قائم کرتا ہے۔ اس لئے انسان کی رائے اکثر اوقات نہ مبنی برحق ہوتی ہے اور نہ مطابق واقعہ۔ خدا جو کہے اس کو تم حق سمجھو اور اس کے مقابلہ میں اپنے خیال کو چھوڑ دو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page