البقرہ ۲
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۰
البقرہ ۲
لوگ تم سے حرمت والے مہینہ کی بابت پوچھتے ہیں کہ اس میں لڑنا کیسا ہے۔ کہہ دو کہ اس میں لڑنا بہت برا ہے۔ مگر اللہ کے راستہ سے روکنا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے لوگوں کو اس سے نکالنا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیاوہ برا ہے۔ اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ بڑی برائی ہے۔ اور یہ لوگ تم سے برابر لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تم کو تمھارے دین سے پھیر دیں اگر قابو پائیں۔ اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں مرجائے تو ایسے لوگوں کے عمل ضائع ہو گئے دنیا میں اور آخرت میں۔ اور وہ آگ میں پڑنے والے ہیں، دہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۱۸۔ ۲۱۷ رجب سنہ ۵ھ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلمانوں کے ایک دستہ اور مشرکین قریش کی ایک جماعت کے درمیان ٹکراؤ ہو گیا۔ یہ واقعہ مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں پیش آیا۔ قریش کا ایک آدمی مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا گیا۔ مسلمانوں کا خیال تھا کہ یہ جمادی الثانی کی ۳۰ تاریخ ہے۔ مگر چاند ۲۹ کا ہو گیا تھا اور وہ رجب کی پہلی تاریخ تھی۔ رجب کا مہینہ ماہ حرام میں شمار ہوتا ہے اور صدیوں کے رواج سے اس معاملہ میں عربوں کے جذبات بہت شدید تھے۔ اس طرح مخالفین کو موقع مل گیا کہ وہ مسلمانوں کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کریں کہ یہ لوگ حق پرستی سے اتنادور ہیں کہ حرام مہینوں کی حرمت کا بھی خیال نہیں کرتے۔ جواب میں کہا گیا کہ ماہ حرام میں لڑنا یقیناً گناہ ہے۔ مگر مسلمانوں سے یہ فعل تو بھول سے اور اتفاقا ہو گیا اور تم لوگوں کا حال یہ ہے کہ جان بوجھ کر اور مستقل طور پر تم اس سے کہیں زیادہ بڑے جرم کر رہے ہو۔ تمھارے درمیان اللہ کی پکار بلند ہوئی ہے مگر تم اس کو ماننے سے انکار کر رہے ہو اور دوسروں کو بھی اس کو اختیار کرنے سے روکتے ہو تمھارے ضد اور عناد کا یہ حال ہے کہ اللہ کے بندوں کے اوپر اللہ کے گھر کا دروازہ بند کرتے ہو، ان کو ان کے اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہو۔ حتیٰ کہ جو لوگ اللہ کے دین کی طرف بڑھتے ہیں ان کو طرح طرح سے ستاتے ہو تا کہ وہ اس کو چھوڑ دیں۔ حالاں کہ کسی کو اللہ کے راستہ سے ہٹانا اس کو قتل کر دینے سے بھی زیادہ برا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا جرم ہے کہ آدمی خود بڑی بڑی برائیوں میں مبتلا ہو اور دوسرے کی ایک معمولی خطا کو پا جائے تو اس کو شہرت دے کر اس کو بدنام کرے۔ مخالفتوں کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ دین پر قائم رہنے کے لئے ان کو جہاد کی حد تک جانا پڑتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ضروری ہے۔ یہ ایک دو طرفہ عمل ہے جو خدا پرستوں اور خدا دشمنوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ اس طرح ایک طرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے نہیں بلکہ اپنی ذات کے پجاری ہیں۔ جو اپنے ذاتی مفاد کے لئے اللہ سے بے خوف ہو کر اللہ کے بندوں کو ستاتے ہیں۔ دوسری طرف اسی واقعہ کے درمیان ایمان اور ہجرت اور جہاد کی نیکیاں ظہور میں آتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے حالات کی شدت کے باوجود اللہ پر اپنے بھروسہ کو باقی رکھا اور بس نے اس کو کھو دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues