کچھ تفسیر کے بارے میں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱
کچھ تفسیر کے بارے میں
حضرت مسیح ایک انسان تھے، وہ اللہ نہ تھے۔ اس بات کو منطقی انداز میں ثابت کرنا ہو تو اہل منطق قضیے قائم کریں گے۔ مثلاً وہ کہیں گے :
پہلا قضیہ : خدا مادہ یا جسم نہیں۔ جو جسم نہ رکھتا ہو وہ کھانا نہیں کھاتا، اس لئے خدا کھانا نہیں کھاتا۔ دوسرا قضیہ : خدا کھانا نہیں کھاتا۔ مسیح کھانا کھاتے تھے۔ اس لئے مسیح خدا نہیں تھے ۔ یہ منطقی انداز میں بات کو ثابت کرنے کی ایک مثال ہے، مگر اسی بات کو قرآن میں ان لفظوں میں کہا گیا ہے : مسیح ابن مریم صرف ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں اور ان کی ماں ایک صدیقہ تھیں دونوں کھانا کھاتے تھے (مائدہ ۷۵)
قرآن اگرچہ اعلیٰ ترین علمی کتاب ہے مگر اس میں کسی بات کو ثابت کرنے کے لئے معروف علمی و فنی انداز نہیں اختیار کیا جاتا۔ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ فنی آداب اور علمی تفصیلات کو چھوڑ کر اصل بات کو مؤثر اسلوب میں بیان کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا مقصد تذکیر و نصیحت ہے اور تذکیر و نصیحت کے لئے ہمیشہ سادہ اسلوب کارآمد ہوتا ہے نہ کہ فنی اسلوب ۔
تا ہم یہ ایک طالب علمانہ ضرورت ہے کہ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک آدمی قرآن کے بیانات کی علمی تفصیلات اور اس کے فنی پہلوؤں کو جاننا چاہے۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ قرآن کی تفسیر کے لئے کیا انداز اختیار کیا جائے ۔ اگر قرآن کے اپنے سادہ اسلوب میں تفسیر کی جاتی ہے تو اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ تفسیر میں نصیحت و تذکیر کی فضا باقی رہے گی۔ مگر علمی تقاضوں کی رعایت نہ ہو سکے گی ۔ دوسری طرف اگر علمی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے تفسیر لکھی جائے تو خاص طبائع کو وہ پسند آسکتی ہے مگر یہ صرف قرآن کے اصل مقصد تذکیر و موعظت ۔ کو مجروح کرنے کی قیمت پر ہو گا۔
اس مسئلہ کا ایک حل یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ جو تفسیر شائع کی جائے وہ خود تو نصیحت اور تذکیر کے انداز میں ہو۔ اس کے بعد ایک مستقل کتاب قرآنی انسائیکلوپیڈیا یا قاموس القرآن کے طور پر شائع کی جائے۔ اس دوسری کتاب میں وہ تمام علمی، تاریخی اور فنی بحثیں ہوں۔ مثلاً حضرت ابراہیم سے متعلق آیات کے ذیل میں اصل تفسیر میں آپ کی زندگی کے انہیں پہلوؤں کی وضاحت ہو جن کی طرف قرآن میں اشارے کئے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ آپ کے بارے میں جو تاریخی اور اثریاتی تحقیقات ہیں ان کو قرآنی انسائیکلوپیڈیا میں لفظ "ابراہیم" کے ذیل میں جمع کیا جائے۔ اسی طرح فقہی، کلامی اور لسانی مسائل کی تفصیلات بھی انسائیکلوپیڈیا میں درج ہوں نہ کہ قرآن کی تفسیر میں۔ ہم نے اسی نہج پر قرآن کی خدمت کا ارادہ کیا ہے۔ اولاً تذکیر القرآن کے نام سے تفسیر مرتب کی جارہی ہے۔ اس کے بعد انشاء اللہ قرآنی انسائیکلوپیڈیا کی ترتیب کا کام کیا جائے گا۔ اللہ اس مقصد کو تکمیل تک پہنچائے۔ آمین
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues