عقل سے کام لیجیۓ نہ کہ جذبات سے
الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵
کبھی سیاست کو ترک کرنے ہی کا نام سیاست ہونا ہے اکتوبر ۱۹۴۴ء میں دوسری عالمی جنگ اپنے شباب پر تھی۔ امریکہ، بحرالکاہل کے جزائر کو فتح کرتے ہوئے جاپان کے دروازہ تک پہنچ چکا تھا۔ اس وقت جاپان کے نائس ایڈمرل اونیشی (TakiJIoRO ONISHI) نے اپنی فوج کے اعلیٰ افسروں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا : ”میرے خیال سے اب ایک ہی راستہ رہ گیا ہے جس میں ہم یقین کر سکیں کہ ہماری معمولی طاقت زیادہ سے زیادہ موثر بن سکتی ہے۔ وہ یہ کہ ہم ”زیرو فائٹرز“ کا ایک دستہ بنائیں جو ۲۵۰ کلوگرام کا بم لے کر دشمن کے سمندری جنگی جہازوں پر اپنے آپ کو گرا دیں۔ “ اونیشی کی یہ تجویز ہوابازوں تک پہنچائی گئی۔ فی الفور منظوری کا فیصلہ ہو گیا۔ ہوابازوں کا ایک دستہ بنایا گیا جس کا نام تھا کامی کیز (KAMIKAZE) یہ ایک جاپانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں ”خدائی آندھی“۔ یہ نام اس لئے اختیار کیا گیا کیونکہ تیرھویں صدی میں قبلائی خاں کے حملہ سے ”ایک خدائی آندھی نے جاپان کو بچایا تھا“ جس میں اس کی جنگی کشتیاں ایک سمندری طوفان نے تباہ کر ڈالی تھیں۔
اگست ۱۹۴۵ء میں جنگ ختم ہوئی تو پانچ ہزار کی تعداد میں جاپانی ہواباز اس طرح اپنی جانیں دے چکے تھے ساتھ یہ قربانیاں دی تھیں، اس کا اندازہ ایک خط سے ہو گا ۔ سسومو (SUSUMU KIJITSU) اسی قسم کا ایک ۲۲ سالہ جاپانی ہوا باز تھا جس نے ایک بم لے کر اپنے ہوائی جہاز کو دشمن کے ایک سمندری جنگی جہاز پر گرایا تھا، اس نے آخری دن اپنے دفتر سے اپنے خاندان کو حسب ذیل خط لکھا :
”میرے پیارے والدین، پیارے بھائیو اور میری پیاری بہن !
یقیناً آپ کو اس کا علم نہیں ہوگا، مگر چند دن پہلے میں نے آپ کو الوداع کہی ہے جب کہ میں اپنے گھر کے اوپر پرواز کر رہا تھا، میرے جہاز کے بازوؤں کے سایہ نے ہمارے مکان کی چھت کو چھوا۔ میرے خیالات ہمہ تن آپ کی طرف لگے ہوئے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ بہت جلد میرا وقت آجائے گا۔ مگر مجھے موت کا ڈر نہیں۔ مجھے صرف یہ فکر ہے کہ میرا عمل کیا جاپان کو بچانے کے لئے مفید اور فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ میں اور میرے ساتھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہماری قربانیاں ہمارے بعد کی نسلوں کے لئے فتح لے آئیں گی۔ ہم نہایت پرسکون ہیں۔ ہم اکثر مذاق کرتے ہیں اور اپنا وقت پڑھنے اور تاش کھیلنے میں گزارتے ہیں۔ آپ ہمارے لئے غمگین نہ ہوں۔ اس کے برعکس آپ کو فخر کرنا چاہئے کہ میرا جسم اگرچہ جلد ہی ختم ہو جائے گا مگر میری روح ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی۔ ۔ ۔ ۔ اب الوداع، کیونکہ آخروقت کی گھنٹی ہو چکی ہے۔ انہوں نے اکتوبر ۱۹۱۴ء اور جون ۱۹۴۵ کے درمیان ۴۳ امریکی جنگی جہازوں کو تباہ کر دیا تھا۔ جاپان کے بہادر ہوابازوں نے کن جذبات کے راتا (پتہ نہیں اردو یا انگریزی کا لفظ ہے) تاہم تاریخ کی یہ انوکھی قربانی جاپان کو بچانے والی ثابت نہ ہوسکی ۔ کیوں کہ دشمن کے پاس ایک اور برتر طاقت تھی جس کے مقابلہ میں جاپانی ہوا بازوں کی یہ لامثال قربانی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues