Kamikaze: Suicide Pilots
الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۶
Kamikaze: Suicide Pilots
بھی بے اثر تھی۔ یہ تھا ایٹم بم۔ ۶ اگست ۱۹۴۵ کو امریکی ہوائیہ نے دو ایٹم بم جاپان کی زمین پر گرائے جس نے ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے عظیم صنعتی شہروں کو چند منٹ میں خاک کا ڈھیر بنا دیا۔ اب جاپان کے لئے اس " جنگ کو ختم کر کے جنگ جاری رکھنے " کی تدبیر کا کمیاب کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دے تاہم جاپان کے لئے اب بھی راستے بند نہیں ۱۹۷۰ میں بڑا مدعا ۔ ۲۵ سال تک " سیاست " ہوئے۔ اب اس نے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے " جنگ کو جاری رکھنے کے لئے جنگ کے خاتمہ " کا اعلان کر دیا۔ جاپان کے شہنشاہ ہیروہیتو نے ریڈیو پر قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا :
" ہم ایک ناقابل برداشت صورت حال سے کئے ۔ یہاں تک کہ امریکہ کے لئے اس کو نظر انداز کرنا نا ممکن دوچار ہیں۔ مگر ہمیں اس ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کی تعمیر نو کر سکیں۔ " جاپان نے امریکہ کے سیاسی اور فوجی اقتدار کو فوجی اڈہ کو خالی کر کے اپنے وطن واپس چلی گئیں۔ وہ ہار کو ماننا جانتا تھا امریکہ کے ایک شخص نے ۱۸۳۱ میں تجارت کی۔ اس میں وہ ناکام ہو گیا۔ ۱۸۳۲ میں اس نے الیکشن میں شکست کھائی۔ ۱۸۳۳ میں اس نے دوبارہ تجارت کی مگر اس بار بھی ناکام رہا۔ ۱۸۳۴ میں اس کو امید تھی کہ اس کی پارٹی اس کو کانگریس کی ممبری کے لئے نامزد کرے گی۔ مگر اس کی امید پوری نہ ہو سکی۔ ۱۸۵۵ میں وہ سینٹ کے لئے کھڑا ہوا مگر ہار گیا ۔ ۱۸۵۸ میں دوبارہ اس کو سینٹ کے الیکشن میں شکست ہوئی۔ یہ بار بار ناکام ہونے والا شخص ابراہام لنکن (۱۸۶۵- ۱۸۰۹) تھا جو بالاخر ۱۸۶۰ میں امریکہ کا صدر چنا گیا اور آج وہ نئے امریکہ کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نارمن ونسنٹ پیل نے لنکن کی کامیابی کا راز یہ بتایا ہے: HE KNEW HOW TO ACCEPT DEFEAT وہ جانتا تھا کہ شکست کو کس طرح تسلیم کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues