مقابلہ کی سیاست ترک کر کے
الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۷
مقابلہ کی سیاست ترک کر کے
دوسری جنگ عظیم (۴۵-۱۹۳۹) میں جاپان اور برطانیہ ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اس جنگ میں جاپان نے بدترین شکست کھائی۔ مگر اس کے صرف ۲۰ سال بعد یورپ کے بازار جاپانی مصنوعات سے بھرے ہوئے تھے۔ جاپان نے ۱۹۷۴ میں برطانیہ اور دوسرے پانچ یورپی ملکوں میں ۲ بلین ڈالر کا سامان فروخت کیا۔ یورپ میں چھوٹے الیکٹرانک سامان کی ۷۵ فی صد مارکیٹ پر جاپان نے قبضہ کر لیا ہے۔ ۱۹۷۲ میں یورپ میں فروخت ہونے والی جاپانی کاروں کی تعداد ۸۰۲۵۳ھی۔
جاپان کو کیسے یہ موقع ملا کہ وہ اپنے حریف کی اقتصادیات پر اس طرح چھا جائے، انگلستان میں مقیم ایک جاپانی تاجر سے جب یہ سوال کیا گیا تو اس نے جواب دیا :
I SURRENDERED MY SWORD TO A BRITISH OFFICER AT THE END OF WORLD WAR II Time (New York) August 6, 1973 دوسری جنگ عظیم کے بعد میں نے اپنی تلوار ایک برطانی افسر کے حوالے کردی تھی۔ مقابلہ کی سیاست میں جاپان کو شکست ہوگئی۔ جاپان نے مقابلہ کو ترک کرکے تعمیری شعبوں میں اپنے کو مستحکم کرنا شروع کر دیا۔ جدوجہد کے میدان کی تبدیلی کارگر ثابت ہوگئی۔ جاپان نے "ترکِ سیاست" سے وہ مقصد زیادہ بہتر طور پر حاصل کر لیا جس کو "سیاست" کے ذریعہ حاصل کرنے میں وہ ناکام ہو گیا تھا۔
عدم تشدد کا ہتھیار تشدد سے زیادہ سخت ثابت ہوا ۔ تشدد کو تشدد کے ذریعہ ختم کرنے کا ان کے پاس کافی وجہ جواز تھا۔ مگر وہ نہیں سے زیادہ سخت ثابت ہوا جانتے تھے کہ عدم تشدد کے اصول پر اٹھنے والے طوفان کا مقابلہ کس طرح کریں۔ جب یہ صورت حال سامنے ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی آئی تو ایک پرانے انگریز کلکٹر نے سکریٹریٹ کو تار دیا : تحریک ۱۹۱۵ء میں شروع ہوئی۔ ابتدائی ۵۰ سال تک یہ تحریک تشدد کے طریقہ پر چلتی رہی۔ ۱۹۱۹ء میں مہاتما گاندھی ہندوستان کی سیاست میں داخل ہوئے تو انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اہنسا کی بنیاد پر آزادی کی تشدد کے بغیر کس طرح ہلاک کیا جائے ۔ اکثر لوگ سیاست کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ حریف سے لامتناہی انگریز حکمرانوں کے لئے گاندھی جی کا عدم تشدد کا لڑائی جاری رکھی جائے۔ مگر اصل سیاست یہ ہے کہ خاموش تدبیر ہتھیار پہلے مجاہدین آزادی" کے تشدد کے ہتھیار کے ذریعہ حریف کو اسطرح بے ہتھیار کر دیا جائے کہ وہ لڑنے کے قابل رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues