Al-Risala · March 1980 · page 20

سیاست ، سیاست ، سیاست

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۲۰

ا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو اللہ کی کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا۔ ان کو اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جا رہا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ پھر ان کا ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے بے رخی کرتے ہوئے۔ یہ اس سبب سے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو ہرگز آگ نہ چھوئے گی گنتی کے چند دنوں کے۔ اور ان کی بنائی ہوئی باتوں نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ پھر اس وقت کیا ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے ایک دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے کیا ہے، اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ تم کہو، اے اللہ، سلطنت کے مالک توجس کو چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے۔ اور توجس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کرے۔ تیرے ہاتھ میں ہے سب خوبی۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور تو بے جان سے جان دار کو نکالتا ہے اور تو جان دار سے بے جان کو نکالتا ہے۔ اور توجس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے اللہ کی ہدایت ایک ہی ہدایت ہے جو مختلف قوموں کی زبان میں ان کے پیغمبروں پر اتاری جاتی رہی ہے۔ وہی قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر اتاری گئی ہے۔ اس یکسانیت کی وجہ سے آسمانی کتابوں کو جاننے اور ماننے والوں کے لئے قرآن کی دعوت کو پہچاننا مشکل نہیں۔ قرآن کی دعوت اور پچھلی آسمانی تعلیمات میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ قرآن کی دعوت ان کی اپنی عادتوں سے دین خداوندی کو پاک کر رہی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کی دعوت کا انکار کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت کو وہ اپنے لئے کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے۔ اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر انھوں نے اپنے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرض کر لیا ہے۔ اپنی اس نفسیات کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس حق کا اعتراف نہ کریں تو اس سے ان کی نجات خطرہ میں پڑنے والی نہیں۔ مگر جب خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ وہ محض خوش خیالیوں کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔ ہر قسم کی عزت و طاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا چاہے تو اسی کے حق میں عزت وسربلندی کا فیصلہ کر دے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کر دے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت و طاقت کا مستحق ہو سکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے اور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا کی وسیع تر کائنات میں، روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اور حادیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر ناحق کا کار و بار کر رہے ہوں وہ ہمیشہ کچی دعوت حق کے مخالف ہو جاتے ہیں، ایسے داعی کو بے گھر کیا جاتا ہے۔ اس کے معاشی ذرائع برباد کئے جاتے ہیں۔ مگر ایسا شخص براہ راست اللہ کی سر پرستی میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے خصوصی رزق کا انتظام کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی معاشی محنت کے حساب سے رزق دیا جاتا ہے اور ایسے شخص کو بلا حساب۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page