سیاست ، سیاست ، سیاست
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱
مسلمانوں کو چاہیے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں۔ اور جو شخص ایسا کرے گا تو اللہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مگر ایسی حالت میں کہ تم ان سے بچاؤ کرنا چاہو۔ اور اللہ تم کو ڈراتا ہے اپنی ذات سے۔ اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ کہہ دو کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اس کو چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ اس کو جانتا ہے۔ اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکی کو اپنے سامنے موجود پائے گا، اور جو برائی کی ہوگی اس کو بھی۔ اس دن ہر آدمی یہ چاہے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا۔ اور اللہ تم کو ڈراتا ہے اپنی ذات سے۔ اور اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ کہو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔ کہو کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی ۔ پھر اگر وہ اعراض کریں تو اللہ کا فروں کو دوست نہیں رکھتا ۔ ۲۸ - ۳۲ مومن تمام انسانوں کے ساتھ نیکی اور عدل کا سلوک کرنے والا ہوتا ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ مگر جب غیر مسلموں کے ساتھ دوستی مسلمانوں کے مفاد کی قیمت پر ہو تو ایسی دوستی مسلمان کے لئے جائز نہیں۔ تاہم بچاؤ کی تدبیر کے طور پر اگر کسی وقت ایک مسلمان یا کسی مسلم گروہ کو غیر مسلموں سے وقتی تعلق قائم کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ نیت کو دیکھتا ہے اور جب نیت درست ہو تو وہ کسی کو اس کے عمل پر نہیں پکڑتا۔ ہر تمام معاملات میں اصل قابلِ لحاظ چیز اللہ کا خوف ہے۔ آدمی کسی معاملہ میں جو رویہ اختیار کرے، اس کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ اللہ اس کا حساب لے گا۔ اور اس کے انصاف کے ترازو میں جو غلط ٹھہرے گا وہ اس کی سزا پا کر رہے گا۔ اللہ سے کسی انسان کی کوئی بات اوجھل نہیں، خواہ وہ اس نے چھپ کر کی ہو یا علانیہ کی۔ جب امتحان کا پردہ ہٹے گا اور آخرت کا عالم سامنے آئے گا تو آدمی کے اعمال کی پوری کھیتی اس کے سامنے ہوگی۔ یہ منظر اتنا ہولناک ہو گا کہ وہ چیزیں جو دنیا میں اس کے نفس کی لذت بنی ہوئی تھیں، وہ چاہے گا کہ وہ اس سے بہت دور چلی جائیں۔ اللہ کسی کے اسلام کو جہاں دیکھتا ہے وہ اس کا قلب ہے۔ مومن وہی ہے جس کا اللہ سے تعلق قلبی محبت کی حد تک قائم ہو جائے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اللہ کی محبت و توجہ کا مستحق بنتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ سے اس طرح تعلق قائم کرے اس سے اگر کو تاہیاں بھی ہوتی ہیں تو اللہ اس سے درگزر فرماتا ہے۔ اللہ سرکشوں کے لیے بہت سخت ہے۔ مگر جو لوگ عاجزی کا رویہ اختیار کریں وہ ان کے لیے نرم پڑ جاتا ہے۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جس سینہ میں کسی کی محبت موجود ہو اسی سینہ میں محبوب کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہو سکتی۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محبوب اگر ایسی ہستی ہو جو آدمی کے لئے آقا و مالک کا درجہ رکھتی ہو تو اس کے ساتھ محبت صرف محبت کی حد تک نہ رہے گی بلکہ لازماً وہ اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا کرے گی۔ خدا کی جس محبت کے بعد خدا کے دشمنوں سے قلبی تعلق ختم نہ ہو یا اس کی اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا نہ ہو وہ جھوٹی محبت ہے۔ ایسے شخص کا شمار اللہ کے یہاں انکار کرنے والوں میں ہوگا نہ کہ ماننے والوں میں۔ ________ رسول وہ شخص ہے جس کے کامل خدا پرست ہونے کی گواہی خود خدا نے دی ہے، اس لئے خدا پرستانہ زندگی کے لئے رسول کا نمونہ ہی موجودہ دنیا میں واحد مستند نمونہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues