Al-Risala · March 1980 · page 33

سیاست ، سیاست ، سیاست

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳

نے کہا اے میرے رب میں تو لڑکی جنی ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس نے کیا جنا ہے اور لڑکا نہیں ہوتا لڑکی کی مانند۔ اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ پس اس کے رب نے اس کو اچھی طرح قبول کیا اور اس کو عمدہ طریقہ سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا سر پرست بنایا۔ جب کبھی زکریا ان کے پاس حجرہہ میں آتا تو وہاں رزق پاتا۔ اس نے پوچھا اے مریم یہ چیزیں کہاں سے ملتی ہے۔ مریم نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے بے شک اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دے دیتا ہے۔ اس وقت زکریا نے اپنے رب کو پکارا۔ اس نے کہا اے میرے رب مجھ کو اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا کر بے شک تو دعا کا سننے والا ہے۔ پھر فرشتوں نے اس کو آواز دی جب کہ وہ حجر میں کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا تھا کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے جو کلمہ اللہ کی تصدیق کرنے والا ہوگا اور سردار ہوگا اور اپنے نفس کو روکنے والا ہوگا اور نبی ہوگا نیکوں میں سے۔ زکریا نے کہا اے میرے رب میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالاں کہ میں بوڑھا ہو چکا اور میری عورت بانجھ ہے۔ فرمایا اسی طرح اللہ کردیتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ زکریا نے کہا اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے۔ کہا تمھارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکو گے مگر اشارہ سے اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرتے رہو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرو۔ اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ نے تم کو منتخب کیا اور تم کو پاک کیا اور تم کو دنیا بھر کی عورتوں کے مقابلہ میں منتخب کیا ہے۔ اے مریم اپنے رب کی فرماں برداری کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کر رہے ہیں اور تم ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنے قرعہ ڈال رہے تھے کہ کون مریم کی سر پرستی کرے اور نہ تم اس وقت ان کے پاس موجود تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے تھے۔ 33-44 - ۴۴ اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آل ابراہیم میں ایسے صلحار پیدا کئے جن کو خدا کی پیغام بری کے لئے چنا جائے ۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں دئے بلکہ ان کو اس کا مستحق پایا ر ایسا کیا ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں، ان کی خوشی اس میں بھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے ، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہو جائے ۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کی یاد کرے ، نیکی اور منکر کے درمیان نیکی کے راستہ کو اختیار کرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کو الہٰ ماننے رزق انہیں سے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page