Al-Risala · March 1980 · page 73

سیاست ، سیاست ، سیاست

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۷۳

مجھ کو ہاتھ نہیں لگایا۔ فرمایا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہو جاتا ہے۔ اور اللہ اس کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا اور وہ رسول ہوگا، بنی اسرائیل کی طرف کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندہ کی مانند صورت بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے واقعی پرندہ بن جاتی ہے۔ اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں۔ اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کرتا ہوں۔ اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں کیا ذخیرہ کرتے ہو۔ بے شک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ اور میں تصدیق کرنے والا ہوں تو رات کی جو مجھ سے پہلے کی ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ بعض ان چیزوں کو تمہارے لئے حلال ٹھہراؤں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔ اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ بے شک اللہ میرا رب ہے اور تمہارا بھی۔ پس اس کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے ٥١ - ٥٤ یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لئے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستہ پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانہ میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتیٰ کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آلِ ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے ۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لئے بھیجے گئے ۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لئے تھا کہ یہود کو اس بارے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۳۸:۲) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کر دینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرات نہ ہو سکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے ۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہو چکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ " اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لئے" یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے۔ مگر وہ اسی شخص کے لئے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کچرے سے باہر آکر دلیل پر غور کرے ۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لئے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page