سیاست ، سیاست ، سیاست
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۲۴
آل عمران ۳ تذکیر القرآن پھر جب عیسیٰ نے ان کا انکار دیکھا تو کہا کہ کون میرا مددگار بنتا ہے اللہ کی راہ میں۔ حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور آپ گواہ رہیے کہ ہم فرمانبردار ہیں۔ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے اتارا، اور ہم نے رسول کی پیروی کی۔ پس تو لکھ لے ہم کو گواہی دینے والوں میں۔ اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ جب اللہ نے کہا کہ اے عیسیٰ میں تم کو وفات دینے والا ہوں اور تم کو اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور جن لوگوں نے انکار کیا ہے ان سے تمھیں پاک کرنے والا ہوں اور جو تمھارے پیرو ہیں ان کو قیامت تک ان لوگوں پر غالب کرنے والا ہوں جنھوں نے تمھارا انکار کیا ہے۔ پھر میری طرف ہوگی سب کی واپسی۔ پس میں تمھارے درمیان ان چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم جھگڑتے تھے۔ پھر جو لوگ منکر ہوئے ان کو سخت عذاب دوں گا دنیا میں اور آخرت میں اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کو اللہ ان کا پورا اجر دے گا اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ یہ ہم کو سناتے ہیں اپنی آیتیں اور پُر حکمت مضامین۔ جب عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔ اللہ نے اس کو مٹی سے بنایا۔ پھر اس کو کہا کہ ہو جا تو وہ ہو گیا۔ حق بات ہے تیرے رب کی طرف سے۔ پس تم نہ ہو شک کرنے والوں میں۔ پھر جو تم سے اس بارے میں حجت کرے بعد اس کے کہ تمھارے پاس علم آچکا ہے تو ان سے کہو کہ آؤ، ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو اور تمھارے بیٹوں کو، اپنی عورتوں کو اور تمھاری عورتوں کو۔ اور ہم اور تم خود بھی جمع ہوں۔ پھر ہم مل کر دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ بے شک یہ سچا بیان ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ پھر اگر وہ قبول نہ کریں تو اللہ مفسدوں کو جاننے والا ہے 52-63 - ۶۳ بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیح کو ماننے سے انکار کر دیا ۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہرقسم کے وسائل ہوتے ہیں، مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ جس کو رد کردیں وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بد دین ہی بنا رہتا ہے ۔ ایسے وقت میں داعی حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہوتا ہے بے شک کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔
حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اور اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلاف حق زندگی پر حق کالیبل لگاکر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لئے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے۔ جو لوگ دعوت حق کے مخالف نہیں رہ وہ اللہ کی نظر میں مفسد ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہو سکتا کہ خدا کے بندوں کو خدا کی جنت کی طرف جانے سے روکا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues