Al-Risala · March 1980 · page 25

سیاست ، سیاست ، سیاست

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۲۵

تذکیر القرآن آل عمران ۳ مکہہ اے اہل کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مسلم ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ اس سے اعراض کریں تو کہو دو کہ تم گواہ رہو، ہم فرماں بردار ہیں۔ اے اہل کتاب، تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل تو اس کے بعد اتری ہیں۔ کیا تم اس کو نہیں سمجھتے ۔ تم وہ لوگ ہو کہ تم اُس بات کے بارے میں جھگڑے جس کا تمہیں کچھ علم تھا۔ اب تم اُس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں۔ اور اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔ ابراہیم نہ یہودی تھا اور نہ نصرانی۔ بلکہ حنیف مسلم تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا۔ لوگوں میں زیادہ مناسبت ابراہیم سے ان کو ہے جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ پیغمبر اور جو اس پر ایمان لائے۔ اور اللہ ایمان والوں کا ساتھی ہے۔ اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تم کو گمراہ کر دے ۔ حالانکہ وہ نہیں گمراہ کرتے مگر خود اپنے آپ کو۔ مگر وہ اس کا احساس نہیں کرتے ۔ اے اہل کتاب ، اللہ کی نشانیوں کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم گواہ ہو۔ اے اہل کتاب ، تم کیوں صحیح میں غلط کو ملاتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو ۔ حالانکہ تم جانتے ہو - ۶۴)

توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلم حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ اس مسلمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طور پر صحیح دین ثابت ہوتا ہے نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک مانا جائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لئے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طور پر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طور پر وہ سب کچھ اختیار کر لیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔

کہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود و نصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایا ہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لئے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کر دیں کہ نہ: اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو " اسلاف" کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کر دیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالتا ہے یعنی ایسی باتیں کہنا جو فنی نفس بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کر سکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہو جائیں ۔ " مسلم حنیف " وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیر حنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑ جائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کولے کراس پراتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤںکو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page