Al-Risala · March 1980 · page 26

سیاست ، سیاست ، سیاست

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۲۶

اور اہل کتاب کے ایک گروہ نے کہا کہ مسلمانوں پر جو چیز اتاری گئی ہے، اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو اس کا انکار کر دو، شاید کہ مسلمان بھی اس سے پھر جائیں۔ اور یقین وہ کرو مگر صرف اس کا جو چلے تمہارے دین پر۔ کہو ہدایت وہی ہے جو اللہ ہدایت کرے ۔ اور یہ اسی کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو تم کو دیا گیا تھا۔ یا وہ تم سے تمہارے رب کے یہاں حجت کریں۔ کبوٹرائی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑا وسعت والا ہے، علم والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے لئے خاص کر لیتا ہے۔ اور اللہ بڑا فضل والا ہے۔ اور اہل کتاب میں کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر تم اس کے پاس امانت کا ڈھیر رکھو تو وہ اس کو تمہیں ادا کر دے۔ اور ان میں کوئی ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس ایک دینار امانت رکھ دو تو وہ تم کو ادا وہ کرے الایہ کہ تم اس کے سر پر کھڑے ہو جاؤ یہ اس سبب سے کہ وہ کہتے ہیں کہ غیراہل کتاب کے بارے میں ہم پر کوئی الزام نہیں۔ اور وہ اللہ کے اوپر جھوٹ لگاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ بلکہ جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور اللہ سے ڈرے تو بے شک اللہ ایسے متقیوں کو دوست رکھتا ہے۔ ۷۳-۷۴ ایک گروہ جس میں انبیاء اور صلحاء پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کو ایک گروہ ہی چیز سمجھ لیتا ہے نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی تھا۔ ان کا ذہن، تاریخی روایات کے اثر سے یہ بن گیا تھا کہ جو ہمارے گروہ میں ہے وہ ہدایت پر ہے اور جو ہمارے گروہ سے باہر ہے نہ ہدایت سے خالی ہے۔ جو لوگ حق کو اس طرح گرو ہی چیز سمجھ لیں کہ ایسی صداقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو ان کے گروہ کے باہر ظاہر ہوئی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ حق وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے نہ کہ وہ جو کسی شخص یا گروہ کی طرف سے ملے۔ وہ اگرچہ دین خداوند ی کا نام لیتے ہیں مگر ان کا دین حقیقتاً گروہ پرستی ہوتا ہے نہ کہ خدا پرستی ۔ ان کا یہ مزاج ان کی آنکھ پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ اپنے گروہ سے باہر کسی کا فضل دیکھا نہیں دکھائی نہیں دیتا۔ کھلے کھلے دلائل سامنے آنے کے بعد بھی وہ اس کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے حلقہ سے باہر اٹھنے والی دعوتِ حق کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ دو عملی کا طریقہ اختیار کر کے وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد باتیں مشہور کرکے لوگوں کو اس کی صداقت کے بارے میں مشتبہ کرتے ہیں شریعتِ خدا وندی کے سراسر خلاف وہ اپنے لئے اس کو جائز کر لیتے ہیں کہ نہ اخلاق کے دو معیار بنائیں، ایک غیروں کے لئے، دوسرا اپنے گروہ کے لئے۔

کسی کو اپنے دین کی نمائندگی کے لئے قبول کرنا اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔ اس کا فیصلہ گروہی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ یہ سعادت اس کو ملتی ہے جس کو اللہ اپنے علم کے مطابق پسند کرے ۔ اور اللہ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے کو اس طرح وابستہ کرے کہ وہ اس کا نگراں بن جائے، جس سے وہ ڈرے، وہ اس کا آقا بن جائے جس کے ساتھ کیے ہوئے عہدِ اطاعت کو کبھی نظر انداز نہ کر سکے۔ — اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو امانت کو پورا کرنے والے ہوں اور عہد کے پابند ہوں۔ ایسے ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ امانت کی ادائیگی کے معاملے میں بے پروا ہوں اور عہد کو پورا کرنے میں حساس نہ رہیں وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے دور کردیے جاتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page