Al-Risala · March 1980 · page 27

سیاست ، سیاست ، سیاست

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۲۷

ان کی طرف دیکھے گا قیامت کے دن ، اور نہ ان کو پاک کرے گا ۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی زبانوں کو کتاب میں موڑتے ہیں تاکہ تم اس کو کتاب میں سے سمجھو حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی جانب سے نہیں ۔ اور وہ جان کر اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں ۔ کسی انسان کا یہ کام نہیں کہ اللہ اس کو کتاب اور حکمت اور نبوت دے اور وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ ۔ بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم اللہ والے بنو ، اس واسطے کہ تم دوسروں کو کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور خود بھی اس کو پڑھتے ہو ۔ اور نہ وہ تمہیں یہ حکم دے گا کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو رب بناؤ ۔ کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا ، بعد اس کے کہ تم اسلام لا چکے ہو ۔ ۸۰ ۔ ایک شخص جب ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ سے اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری کرے گا اور بندوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے گا جو خدا کی شریعت کی طرف سے اس پر عائد ہوتی ہیں ۔ یہ ایک پابند زندگی ہے جس کو عہد کی زندگی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ اس زندگی پر قائم ہونے کے لئے نفس کی آزادیوں کو ختم کرنا پڑتا ہے ۔ بار بار اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔ اس لئے اس عہد کی زندگی کو وہی شخص نباہ سکتا ہے جو نفع و نقصان سے بے نیاز ہو کر اس کو اختیار کرے جس شخص کا حال یہ ہو کہ نفس پر چوٹ پڑے یا دنیا کا مفاد خطرہ میں نظر آئے تو وہ عہدِ خداوندی کو نظر انداز کر دے اور اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی طرف جھک جائے ، اس نے گویا آخرت کو دے کر دنیا خریدی ۔ جب آخرت کے پہلو اور دنیا کے پہلو میں سے کسی ایک کو لینے کا سوال آیا تو اس نے دنیا کے پہلو کو ترجیح دی ۔ جو شخص آخرت کو اتنی بے قیمت چیز سمجھ لے وہ آخرت میں اللہ کی عنایتوں کا حق دار کس طرح ہو سکتا ہے ۔

جو لوگ آخرت کو اپنی دنیا کا سودا بنائیں وہ دین یا آخرت کے منکر نہیں ہو جاتے ۔ بلکہ دین اور آخرت کے پورے اقرار کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ۔ پھر ان دو متضاد رویوں کو وہ کس طرح ایک دوسرے کے مطابق بناتے ہیں ، اس کا ذریعہ تحریف ہے ۔ یعنی آسمانی تعلیمات کو خود ساختہ معنی پہنانا ایسے لوگ اپنی دنیا پرستانہ روش کو آخرت پسندی اور خدا پرستی ثابت کرنے کے لئے دینی تعلیمات کو اپنے مطابق ڈھال لیتے ہیں ۔ کبھی خدا کے الفاظ کو بدل کر اور کبھی خدا کے الفاظ کی اپنے مفید مطلب تشریح کر کے ۔ وہ اپنے اوپر بدلنے کے بجائے کتاب الہی کو بدل دیتے ہیں تاکہ جو چیز کتاب الہی میں نہیں ہے اس کو عین کتاب الہی کی چیز بنا دیں ، اپنی بے خدا زندگی کو باخدا زندگی ثابت کر دکھائیں ۔ اللہ کے نزدیک یہ بدترین جرم ہے کہ آدمی اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اللہ نے نہ کہی ہو ۔

کسی تعلیم کی صداقت کی سادہ اور یقینی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملائے ، لوگوں کے خوف و محبت کے جذبات کو بیدار کرے ، اس کو اللہ کی طرف موڑ دے ۔ اس کے برعکس جو تعلیم شخصیت پرستی یا در کون پرستی پیدا کرے ، جو انسان کے نازک جذبات کا مرکز توجہ کسی غیر خدا کو بناتی ہو ، اس کے متعلق سمجھنا چاہئے کہ وہ سراسر باطل ہے خواہ بظاہر اپنے آپ کو اس نے حق کا لیبل کیوں نہ لگار کھا ہو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page