Al-Risala · March 1980 · page 38

سیاست ، سیاست ، سیاست

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳۸

تذکیر القرآن آل عمران ۳ اور جب اللہ نے پیمبروں کا عہد لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی، پھر تمہارے پاس پیغمبر آئے جو سچا ثابت کرے ان پیشین گوئیوں کو جو تمہارے پاس ہیں تو تم اس ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے؟ اللہ نے کہا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا۔ انھوں نے کہا ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا اب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ پس جو شخص پھر جائے تو ایسے ہی لوگ نافرماں ہیں۔ کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالانکہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور ذہن میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ کہو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہمارے اوپر اتارا اور جو اتارا گیا ابراہیم پر، اسمعیل پر، اسحاق پر اور یعقوب پر اور اولاد یعقوب پر۔ اور جو دیا گیا موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور ہم اسی کے فرمان بردار ہیں۔ اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہوگا۔ اللہ کیوں کر ایسے لوگوں کو ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے، حالانکہ وہ گواہی دے چکے کہ یہ رسول بر ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں آچکی ہیں۔ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہوگی۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو دی جائے گی۔ مہلت البتہ جو لوگ اس کے بعد توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ بے شک جو لوگ ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے رہے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔ بے شک جن لوگوں نے انکار کیا اور انکار کی حالت میں مر گئے، اگر وہ زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دیں تو قبول نہ کیا گیا جائے گا۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا ۹۱ - ۸۱ اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے، یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں، وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں چاہے اس کا پیغام "اسرائیلی پیغمبر" کی زبان سے بلند ہو، یا "اسمعیل پیغمبر" کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر ہی رہ ہوں، حق کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے ۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لئے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے زمین کا جزنہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق و صداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیونکہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس حق کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے ۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔ اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کا اعتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقتاً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے ، پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بندکرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پر پرورش کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page