Al-Risala · March 1980 · page 29

سیاست ، سیاست ، سیاست

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹

تذکیر القرآن آل عمران ۳ تم ہر گز نیکی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں میں سے نہ خرچ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو۔ اور جو چیز بھی تم خرچ کروگے اس سے اللہ باخبر ہے۔ سب کھانے کی چیزیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں بجز اس کے جو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا قبل اس کے کہ تورات اترے۔ کہو کہ تورات لاؤ اور اس کو پڑھو، اگر تم سچے ہو۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں۔ وہی ظالم ہیں۔ کہو اللہ نے سچ کہا۔ ابراہِیم کے دین کی پیروی کرو جو حنیف تھا اور وہ شرک کرنے والا نہ تھا۔ بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور سارے جہان کے لئے ہدایت کا مرکز۔ اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، جو اس میں داخل ہو جائے وہ مامون ہے۔ اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جو کوئی منکر ہواتو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔ کہو اے اہل کتاب تم کیوں اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہو۔ حالاں کہ اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ کہو! اے اہل کتاب تم ایمان لانے والوں کو اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو، تم اس میں عیب ڈھونڈتے ہو۔ حالاں کہ تم گواہ بنائے گئے ہو۔ اور اللہ تمھارے سے بے خبر نہیں۔

یہود کے طلا رنے بطور خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اتارا ہوا دین ہے تو اس میں بھی حرام و حلال کے مسائل وہی کیوں نہیں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی سوئی وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیار کا قبلہ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔

حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رایج کئے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو دعوت حق سے پھیرنے کے لئے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور درستی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیات دین میں مو شگافیوں سے دین داری کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ خرگوش، کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پر ہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لئے جائز کئے ہوئے ہو۔ وہ ”بیت المقدس“ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی طرح کی طرح سیدھا ہو جانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح و شام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کا درجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے نہ کہ سستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لئے اللہ کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لئے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لئے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کر لے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page