Al-Risala · March 1980 · page 30

سیاست ، سیاست ، سیاست

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰

اے ایمان والو، اگر تم اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو وہ تم کو ایمان کے بعد پھر منکر بنادیں گے۔ اور تم کس طرح انکار کرو گے حالاں کہ تم کو اللہ کی آیتیں سنائی جارہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے۔ اور جو شخص اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو وہ پہنچ گیا سیدھی راہ پر۔ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنا چاہئے۔ اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور پھوٹ نہ ڈالو۔ اور اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔ اس طرح اللہ تمھارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ پاؤ۔ اور ضرور ہے کہ تم میں ایک گروہ ہو جو نیکی کی طرف بلائے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور باہم اختلاف کر لیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح احکام آچکے تھے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے کالے ہوں گے، تو جن کے چہرے کالے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے ، تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کے سبب سے۔ اور جن کے چہرے روشن ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور اللہ جہان والوں پر ظلم نہیں چاہتا۔ اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ کے لئے ہے اور سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے 109 - 100 دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ شیطان آدمی کے ایمان کو اچک لے جائے اور فرشتے اس کی روح اس حال میں قبض کریں کہ وہ ایمان سے خالی ہو۔ اس لئے ضروری ہے کہ آدمی ہر وقت با ہوش رہے، وہ اپنے آپ پر نگراں بن جائے۔ ایمان سے دور ہونے کی ایک صورت یہ ہے جب کہ دین کے اجزا میں تبدیلی کرکے اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم بنادیا جائے۔ دین کی اصل رہی تقویٰ ہے۔ یعنی اللہ سے ڈرنا اور مرتے دم تک اپنے ہر معاملہ میں وہی رویہ اختیار کرنا جو اللہ کے سامنے جواب دہی کے تصور سے بنتا ہو، یہی صراط مستقیم ہے۔ اس سے انحراف یہ ہے کہ "تقویٰ" کے بجائے کسی اور چیز کو مدار دین سمجھ لیا جائے اور اس پر اس طرح زور دیا جائے جس طرح خوف خدا اور فکر آخرت پر دیا جاتا ہے۔ جب بھی دین میں اس قسم کی تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملت کے درمیان اختلاف پڑ جاتا ہے۔ کوئی ایک منی چیز پر زور دیتا ہے کوئی دوسری ضمنی چیز پر، اور اس طرح ملت فرقے فرقے میں بٹ کر رہ جاتی ہے۔ اول الذکر سے ایک اللہ تو جہ کا مرکز بنتا ہے اور ثانی الذکر سے متفرق مسائل تو جہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ جب دین میں سارا زور و تاکید تقویٰ (اللہ سے ڈرنے) پر دیا جائے تو اس سے باہمی اتفاق وجود میں آتا ہے اور جب اس کے سوا دوسری چیزوں پر زور دیا جانے لگے تو اس سے باہمی اختلاف کی وہ برائی پیدا ہوتی ہے جو لوگوں کو جہنم کے کنارے پہنچادیتی ہے ملت کو ضابط مستقر رکھنے اور اس سے پھٹنے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ملت کے کچھ افراد مسلسل اس کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page