سیاست ، سیاست ، سیاست
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳۱
تذکیر القرآن آل عمران ۳ اب تم بہترین گروہ ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ ایمان والے ہیں اور ان میں اکثر نافرمان ہیں۔ وہ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے مگر کچھ ستانا۔ اور اگر وہ تم سے مقابلہ کریں گے تو تم کو پیٹھ دکھائیں گے، پھر ان کو مدد بھی نہ پہنچے گی۔ اور ان پر مسلط کر دی گئی ذلت خواہ وہ کہیں بھی پائے جائیں، سوا اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی عہد ہو یا لوگوں کی طرف سے کوئی عہد ہو اور وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہو گئے اور ان پر مسلط کر دی گئی پستی، یہ اس واسطے کہ وہ اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے وہے اور انھوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہ اس سبب سے ہوا کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے نکل جاتے تھے۔ سب اہل کتاب یکساں نہیں۔ ان میں ایک گروہ عہد پر قائم ہے۔ وہ راتوں کو اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں اور وہ سجدہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں۔ اور برائی سے روکتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑتے ہیں۔ یہ صالح لوگ ہیں جو نیکی بھی کریں گے اس کی ناقدری نہ کی جائے گی اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے۔ بے شک جن لوگوں نے انکار کیا تو اللہ کے مقابلہ میں ان کے مال اور اولاد ان کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اور وہ لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور رہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے پھر وہ اس کو برباد کر دے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ١١-١٤۔ یہود دین خداوندی کے حامل بنائے گئے تھے۔ مگر وہ اس کو لے کر کھڑے نہ ہو سکے اور اس کو محفوظ رکھنے میں بھی ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اپنا دین اس کی صحیح صورت میں بھیجا۔ اب امت مسلمہ لوگوں کے درمیان خدا کی رہنمائی کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔ اس منصب کا تقاضا ہے کہ یہ امت اللہ کی سچی مومن بنے۔ وہ دنیا کو بھلائی کی تلقین کرے اور ان چیزوں سے باخبر کرے جو اللہ کے نزدیک برائی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ کام چونکہ خدائمی کام ہے اس لئے خدا نے اس کے ساتھ اپنا تحفظاتی نظام بھی شامل کر دیا ہے۔ جو لوگ اس کار خداوندی کے لئے اٹھیں گے ان کے لئے خدائی ضمانت ہے کہ ان کے مخالفین ان کو معمولی اذیتوں کے سوا کوئی حقیقی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ تاہم یہود کے انجام کی صورت میں اس کی بھی دائی مثال قائم کر دی گئی کہ اس منصب حق پر سر فراز کئے جانے کے بعد جو لوگ بد عہدی کریں ان کی سزا اسی دنیا میں اس طرح شروع ہو جاتی ہے کہ ان کو ذاتی عزت وسرفرازی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ خدائی رحمتوں سے محرومی کی وجہ سے ان کی بے حسی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں جو ان کی کوتاہیوں کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اٹھیں۔
مال واولا د کی محبت آدمی کو قربانی والے دین پر آنے نہیں دیتی۔ البتہ نمائشی قسم کے اعمال کا مظاہرہ کر کے وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہے۔ مگر جس طرح سخت ٹھنڈی ہوا اچانک پوری کھیتی کو برباد کر دیتی ہے اسی طرح قیامت کا طوفان ان کے نمائشی اعمال کو بے قیمت کر کے رکھ دے گا۔ یہود میں صرف چند لوگ تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ ”امت قائمہ“ کی حیثیت سے ان کا مستقل ذکر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ چند آدمی اگر اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ بھیڑ کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues