سیاست ، سیاست ، سیاست
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳۲
آسمانی کتابوں کو مانتے ہو۔ اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب آپس میں ملتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں۔ کہو تم اپنے غصہ میں مرجاؤ۔ بے شک اللہ دلوں کی بات کو جو انتا ہے۔ اگر تم کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو ان کو رنج ہوتا ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب اللہ کے بس میں ہے۔ ۲۰ - ۱۱۸ مسلمان اسی خدائی دین پر ایمان لائے تھے جو سابق اہل کتاب (یہود) کو اپنے نبیوں کے ذریعہ ملاتھا۔ دونوں کا دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک تھا۔ مگر یہود مسلمانوں کے اس قدر دشمن ہو گئے کہ مسلمان اپنی ساری خصوصیات کے باوجود ان کے نزدیک ایک کلمہ خیر کے بھی حق دار نہ تھے۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی تو وہ دل ہی دل میں خوش ہوتے۔ گویا وہ ان کو انسانی ہمدردی کا مستحق بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود نے انبیائے بنی اسرائیل کی طرف منسوب کر کے ایک خود ساختہ دین بنا رکھا تھا اور اس کے بل پر عوام میں قیادت کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ خدا کے دین میں ساری توجہ خدا کی طرف رہتی ہے ۔ جب کہ خود ساختہ دین میں لوگوں کی توجہ ان افراد کی طرف لگ جاتی ہے جو اس خود ساختہ دین کے خالق اور شارح ہوں ۔ ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو بھی گوارا نہیں کرتے ۔ کیوں کہ ان کو نظر آتا ہے کہ وہ ان کو ان کے مقام عظمت سے ہٹا رہی ہے ۔ جب ایسی صورت پیش آئے تو اللہ کے سچے بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ منفی رد عمل سے بچیں اور مکمل طور پر صبر و تقویٰ پر قائم رہیں ۔ صبر کا مطلب ہے ہر حال میں اپنے کو حق کا پابند رکھنا، اور تقویٰ یہ ہے کہ فیصلہ کن طاقت صرف اللہ کو سمجھا جائے نہ کہ کسی اور کو ۔ مسلمان اگر اس قسم کے مثبت رویہ کا ثبوت دیں تو کسی کی دشمنی ان کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچائے گی خواہ وہ مقدار میں کتنی ہی زیادہ ہو ۔ تاہم اس کے ساتھ مسلمانوں کو حقیقت پسند بھی بننا چاہئے ، ان کو اپنے دوست اور دشمن کے درمیان تمیز کرنا چاہئے تاکہ کوئی ان کی صاف دلی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔
مسلمانوں کے دل میں یہود کے لئے محبت ہونا اور یہود کے دل میں مسلمانوں کے لئے محبت نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ اللہ سراپا رحم اور عدل ہے۔ وہ تمام انسانوں کا خالق و مالک ہے اس لئے جو شخص حقیقی طور پر اللہ کو پالیتا ہے اس کا سینہ تمام خدا کے بندوں کے لئے کھل جاتا ہے۔ اس کے لئے تمام انسان یکساں طور پر اللہ کی عیال بن جاتے ہیں ۔ وہ ہر ایک کے لئے وہی چاہنے لگتا ہے جو وہ اپنے لئے چاہتا ہے۔ مگر جو لوگ اللہ کو حقیقی طور پر پائے ہوئے نہ ہوں، جنھوں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں نہ ملایا ہو وہ صرف اپنی ذات کی سطح پر جیتے ہیں۔ ان کا سرمایہ حیات اپنے فائدے اور اپنے گرو ہی تعصبات ہوتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج ان کو ایسے لوگوں کا دشمن بنا دیتا ہے جو ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آئیں، جان کے اپنے گروہ میں شامل نہ ہوں۔ خدا کو مانتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کی کوئی تدبیر اللہ کی مشیت کے بغیر مؤثر نہیں ہو سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues