ہیرو بننے کا شوق
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳۴
کے بعد خاموش منصوبے کے تحت اپنی کمیوں کی تلافی کی جائے۔ اپنے کو طاقتور بنانے کی مسلسل جدوجہد کی جائے۔ اس وقت تک تصادم سے پر ہیز کیا جائے جب تک حریف کے مقابلہ میں فیصلہ کن اقدام کی حیثیت حاصل نہ ہو جائے۔ اس کے برعکس بے صبری کی سیاست یہ ہے کہ مخالف حالات کو دیکھ کر آدمی بھڑک اٹھے اور مشتعل نفسیات کے تحت اپنے حریف سے ٹکرا جائے ۔ بغیر اس کے کہ اس نے حریف کی نسبت سے اپنے کو تیار کرنے کی کوشش کی ہو۔ موجودہ زمانہ میں مسلم قوموں کی سیاست اس بے صبری کی نہایت عبرت ناک مثال ہے۔ ہر ملک میں یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ طاقت کی فراہمی سے پہلے محض خوش فہمیوں کے تحت اقدام کر دیا گیا اور اس کے فطری نتیجہ کے طور پر جب انجام اپنے خلاف نکلا تو ہمارے قائدین نے دوسری بے صبری یہ دکھائی کہ ناکامی کے اسباب کا بے لاگ جائزہ لینے کے بجائے فی الفور یہ اعلان کر دیا کہ فلاں سازش نے ان کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا ورنہ اب تک دہ اسلام اور ملت اسلام کو عروج کے آسمان پر پہنچا چکے ہوتے (۲۸ اکتوبر ۱۹۷۹ء)
ہیرو بننے کا شوق
ٹی ایس ایلیٹ ( ۱۹۶۵- ۱۸۸۸) نے کہا تھا کہ دنیا کی اکثر مصیبتیں ان لوگوں کی پیدا کی ہوئی ہیں جو اہم بننا چاہتے ہیں : Most of the trouble in the world is caused by people wanting to be important. یہ بات آج مزید اضافہ کے ساتھ صحیح ہے۔ آج ہر نوجوان ہیرو بننا چاہتا ہے اور ہر آدمی اہم شخصیت بننے کے شوق میں مبتلا ہے ۔ اس جنون نے خدا کی زمین کو فساد سے بھر دیا ہے ۔ اس کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں جن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں بھی سب سے بری مثال وہ ہے جب کہ خدا کے دین کو لیڈری کا عنوان بنا دیا جائے ۔ موجودہ زمانہ میں کسی چیز کو نمایاں کرنے کے بہت سے نئے طریقے رائج ہو گئے ہیں۔ ضرورت تھی کہ ان ذرائع کو خدا کی خدائی کے اعلان و اظہار میں استعمال کیا جائے ۔ مگر لوگوں نے ان کو اپنی ذات کو نمایاں کرنے کا سستا نسخہ سمجھ لیا ہے۔ اخبار اور رسالوں کی کثرت، جلسوں اور جلوسوں کی دھوم اور اس طرح کی دوسری سرگرمیاں جو حیرت انگیز تیزی کے ساتھ ہر روز بڑھ رہی ہیں وہ ذاتی نمائش کے اسی بڑھے ہوئے شوق کا نتیجہ ہیں ۔ لبید عرب کے ایک بڑے شاعر تھے۔ انھوں نے سورہ بقرہ پڑھی تو شاعری چھوڑ دی ۔ اس سے پہلے وہ اپنی شاعری دوسروں کو سناتے تھے ، اب قرآن دوسروں کو سنانے لگے۔ انھوں نے کہا : جب قرآن جیسا کلام آگیا تو اب مجھ کو شاعری کرنے کی کیا ضرورت ۔ ایسے ہی لوگ اسلام کو زندہ کرتے ہیں۔ اور جب ہر آدمی کو صرف اپنی ” شاعری“ سنانے کا شوق ہو جائے تو اس کا انجام ملی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues