Al-Risala · March 1980 · page 35

ایک کل اور آنے والا ہے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳۵

ایک کل اور آنے والا ہے

میجر دھیان چند (۱۹۰۶ء ۔ ۱۹۷۹ء) ہاکی کھیلنے کے اتنے ماہر تھے کہ ان کو ہاکی کا جادو گر (Hockey Wizard) کہا جاتا تھا۔ وہ اوسط تعلیم یافتہ تھے اور فوج میں ایک سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے تھے۔ مگر ہاکی میں اپنی غیر معمولی مہارت کی وجہ سے انھوں نے عالمی شہرت حاصل کی۔ ۱۹۳۶ء میں انھوں نے برلن کے اولمپک میں جرمن ہاکی ٹیم کو شکست دی تو ہٹلر نے ان کو بلا کر پوچھا کہ ”تم کیا ہو“ دھیان چند نے کہا کہ ہندوستانی فوج میں سپاہی ہوں۔ ہٹلر نے کہا: ”اگر تم جرمن ہوتے تو آج میں تم کو میجر جنرل بنا دیتا۔ ۱۹۵۶ء میں ان کو پدم بھوشن کا خطاب ملا۔ انھوں نے اپنی سوانح عمری لکھی ہے جس کا نام ہے گول (The Goal) موتیابندھ کی وجہ سے ان کی بینائی کمزور ہوگئی تھی۔ آخر عمر میں ان کو ڈیاسس اور جگر کا کینسر ہوگیا اور اسی میں ان کا ۳ دسمبر کو انتقال ہو گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ تدبیر میں معمولی تبدیلی سے ہر کھیل جیتا جا سکتا ہے۔ F ry situation could be met with a slight change in tactics وہ کہا کرتے تھے کہ کھلاڑی صرف کھلاڑی ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں ان سے پوچھا گیا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ان کا پیغام کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا : بس یہ کہ وہ روز سے بہتر آج کھیلے اور آج سے بہتر کل کھیلے (ٹائمس آف انڈیا ۳ دسمبر ۱۹۷۹ء) What else but to play better than yesterday and do even better tomorrow میجر دھیان چند کو اگر معلوم ہوتا کہ ایک ”کل“ زور ہے جس کا سامنا کھیل کے میدان میں نہیں بلکہ قیامت کے میدان میں ہونے والا ہے تو ان کا مشورہ اپنے نوجوانوں کو شاید کچھ اور ہوتا ۔

موت سے پہلے موت کو دیکھئے

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق دہلی کی سڑکوں پر ہر روز تقریباً دو آدمی حادثہ کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔ ایک روز میں دہلی کی ایک سڑک پر گزر رہا تھا۔ ایک مقام پر غیر معمولی مجمع دیکھ کر ٹھہر گیا۔ دیکھا تو سڑک کے بیچ میں ایک لاش خون میں نہائی ہوئی پڑی تھی اور اس کے پاس ایک جوان عورت بد حواسی کے عالم میں آہ و ماتم کر رہی تھی۔ ایک طرف ایک اسکوٹر اوندھا ہو کر پڑا ہو اتھا۔ معلوم ہوا کہ مرنے والا آدمی اپنے اسکوٹر پر جا رہا تھا۔ اس کی بیوی اس کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھی۔ اتنے میں اسکوٹر ایک بس سے ٹکرا گیا ۔ مرد بس کے نیچے آ کر کچل گیا اور فوراً مر گیا۔ بیوی بچ گئی ۔

اس طرح کے واقعات ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ لوگ ہر روز کیسی نہ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر کسی عجیب بات ہے کہ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ مجھ کو بھی مرنا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنے آپ کو موت سے محفوظ و مامون سمجھے ہوئے ہے۔ اگر آدمی یہ سمجھے کہ اس کو بھی مرنا ہے تو وہ ”موت سے پہلے مرجائے“ اس کی بد حواسی اس سے بھی زیادہ بڑھ جائے جتنی مذکورہ واقعہ میں عورت کی دکھائی دے رہی ہے (۲۲ اکتوبر ۱۹۷۹ء)

موت کے بعد کا جہنم نظر نہیں آتا

مسٹر چرن سنگھ نے کہا: اگر کوئی جہنم ہے تو وہ بھارت ہے۔ کیوں کہ یہ صرف بھارت ہے جہاں بد دیانت لیڈر ملک کو چلاتے ہیں ۔ (ٹا ئمس آف انڈیا ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء) جو لوگ موت کے بعد کے جہنم کو نہ دیکھیں وہ ہمیشہ موت سے پہلے کی زندگی کو جہنم بنا دیتے ہیں ۔ الرسائل مارچ ۱۹۸۰

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page