Al-Risala · March 1980 · page 36

موت کے بعد کا جہنم نظر نہیں آتا

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳۶

قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ کرو (ر اعراف ۸۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں خدا نے جو نظامِ عمل قائم فرمایا ہے اسی کی پیروی تم بھی کرو۔ اس کے خلاف مت چلو۔ مثلاً شہد کی مکھیاں حد درجہ نظم اور تقسیمِ کار کے تحت اپنا عمل کرتی ہیں۔ وہ اپنا کام کرتے ہوئے بقیہ اجزا کائنات کے لئے کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کرتیں۔ ان کی سرگرمیاں اس طرح جاری ہوتی ہیں کہ ایک مقصد حاصل کرتے ہوئے کئی دوسرے فوائد بھی حاصل ہو جائیں۔ فطرت کا یہی اصول انسان کو بھی اپنی زندگی میں اختیار کرنا چاہئے تاکہ خدا کے بنائے ہوئے نظام میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ خدا کا جو نظام صلاح بقیہ کائنات میں قائم ہے وہی نظامِ صلاح انسانی دنیا میں بھی قائم رہے۔

قدیم زمانہ میں کھیتی یا باغبانی کا مطلب صرف یہ سمجھا جاتا تھا کہ کھیت میں فصل بودی جائے یا درخت لگا دئے جائیں۔ موجووہ زمانہ میں علم کے اضافے نے اس میں بہت سی نئی چیزوں کا اضافہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک شہد کی مکھیاں پالنا بھی ہے۔ شہد کی مکھیاں جو مختلف پھولوں کا رس لے کر شہد بناتی ہیں، وہ اسی کے ساتھ ایک اور اہم کام انجام دیتی ہیں۔ یہ ہماری کھیتیوں اور باغوں کی زرخیزی میں اضافہ ہے، انسان اور حیوانات کی طرح نباتات میں بھی نر و مادہ ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان نر و مادہ کا اتصال پھولوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اسی سے دانے اور پھل بنتے ہیں۔ نر پھول اور مادہ پھول اگر باہم نہ ملیں تو کوئی فصل تیار نہیں ہو سکتی۔ شہد کی مکھیاں اس قدرتی عمل میں خصوصی مدد کرتی ہیں۔

ہوا کے جھونکے سے جب شاخیں ہلتی ہیں یا نباتاتی کیڑے ان کے درمیان نقل و حرکت کرتے ہیں تو ان کے جسم یا پروں سے لپٹ کر نر پھول کا زيرہ مادہ پھول تک پہنچتا ہے اور اس طرح ان میں ازدواجی اتصال قائم ہوتا رہتا ہے۔ مگر یہ کافی نہیں ہوتا۔ شہد کی مکھیاں اس عمل کی تکمیل کرتی ہیں۔ کیوں کہ دہ پھولوں کے اندر کارس لینے کے لئے، جواكثر قطرہ سے بھی بہت کم مقدار میں ہوتا ہے، ایک ایک پھول پر بیٹھتی ہیں اور ایک سے دوسرے تک جاتی رہتی ہیں۔ اس عمل کے دوران وہ ایک کا زیرہ دوسرے تک پہنچاتی رہتی ہیں۔ اس لئے شہد کی مکھی پالنا صرف شہد حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ فصلوں کو زیادہ زرخیز بنانے کا بھی خصوصی ذریعہ ہے۔ ایک ماہرِ زراعت نے کہا ہے:

In the modern context, the beekeeping industry has to be viewed as an integral part of agricultural development جدید حالات میں، شہد کی مکھیاں پالنے کی صنعت کو زراعتی ترقی کا لازمی حصہ سمجھنا چاہئے' (ٹائمس آف انڈیا، اکتوبر ۱۹۷۹ء)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page