Al-Risala · April 1980 · page 6

اللہ کیلئے جھکنے والے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۶

میں وہ وقت آیا جب کہ ان کو اللہ کے خوف سے جھک جانا چاہئے تھا مگر اس وقت انہوں نے سرکشی دکھائی۔ دنیا میں انہوں نے اس حق کا انکار کیا جو اللہ نے اپنی سنت کے تحت اپنے ایک بندے کی زبان پر جاری کیا تھا۔ وہ اپنے عزت و وقار اور اپنے دنیوی مفاد کو سنبھالنے میں مشغول رہے۔ ایسے لوگ گویا اسی دنیا میں سجدہ کے وقت سجدہ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کی یہی حالت آخرت میں کھل کر سامنے آ جائے گی۔ دنیا میں ان کے دکھانے اور سنانے والے سجدے آخرت کے حقیقی عالم میں ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔ آخرت میں اللہ کے آگے جھکنا کسی انسان کے لئے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اس اعلیٰ اعزاز کے حق دار وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا ہو کہ وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔

عبادت خانہ میں آدمی اللہ کے سامنے جو "سجدہ" کرتا ہے وہ باعتبار ظاہر اقرار سجدہ ہے نہ کہ ثبوت سجدہ۔ آدمی عبادت کے وقت سجدہ کر کے یہ اقرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کے آگے جھکنے والا ہے مگر اس اقرار کا ثبوت اس کو بندوں کے ساتھ معاملات میں دینا ہے۔ بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں جب تک وہ "جھکنے کا رویہ اختیار نہ کرے اس کا اقرار بے ثبوت رہتا ہے اور بے ثبوت اقرار کی کوئی قیمت اللہ کے یہاں نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: اللہ وہ نہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑ دے اس حالت پر جس پر تم ہو جب تک وہ جدا کر دے ناپاک کو پاک سے (آل عمران 179) گویا ایمان قبول کر کے آدمی نماز روزہ" کی جو عام زندگی اختیار کرتا ہے اسی سے اس کے لئے جنت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ بلکہ لازماً اس کو جانچا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس کا نماز روزہ حقیقی نماز روزہ ہے یا " دیکھنے اور سننے والا " نماز روزہ ہے۔ یہ جانچ کہاں ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا خود سامنے نہیں آتا نہ خدا کے فرشتے کوئی قلب نما آلہ لے کر آسمان سے اترتے۔ یہ جانچ انسان اور انسان کے معاملات میں ہوتی ہے، آدمی نماز کے ذریعہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کےسامنے جھک جانے والا ہے۔ روزہ کے ذریعہ وہ اقرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کے ڈر سے اس کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دینے والا ہے۔ اس اقرار کا عملی امتحان انسانی تعلقات میں ہوتا ہے۔ انسان اور انسان کے درمیان بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک حق کا معاملہ آ جاتا ہے۔ وہاں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی حق کے آگے جھک جائے۔ خواہ یہ جھکنا بظاہر ایک کمزور انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔ ایسے موقع پر آدمی اگر جھک جائے تو گویا وہ اللہ کے آگے عملی طور پر جھک گیا۔ اس نے نماز میں کئے ہوئے اپنے اقرار سجدہ کو سچا ثابت کیا۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ایک حق کا معاملہ جو بظاہرکسی انسان کی نسبت سے پیش آیا ہے اس کو وہ محض انسان کا معاملہ سمجھ لے اور عزت و وقار کا خیال اس کو سرکشی پر آمادہ کر دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جانچ کے وقت وہ اللہ کے آگے نہیں جھکا؛ اس نے اپنے اقرار سجدہ کا عملی ثبوت نہیں دیا۔ اسی طرح انسان اور انسان کے درمیان معاملات میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ جائز اور ناجائز کے مسائل سامنے آجاتے ہیں، انسان سے معاملہ کرتے ہوئے اس کے لئے ایک رویہ ظلم کا رویہ ہوتا ہے اور دوسرا انصاف کا رویہ۔ ایسے موقع پر آدمی اگر خدا کے منع کئے ہوئے طریقہ سے رک جائے اور اپنے کو صحیح اور منصفانہ رویہ کا پابند بنائے تو اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ روزہ رکھ کر اس نے اطاعت الہیٰ کا جو اقرار کیا تھا اس کو اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا۔ اس نے اپنے اقرار روزہ کا عملی ثبوت دے دیا۔ اس کے برعکس اگر معاملہ کے وقت اس پر مفاد اور مصلحت کا خیال غالب آجائے وہ انصاف کے طریقے کو چھوڑ کر ظلم اور بے راہ روی کا طریقہ اپنالےتو گویا اس نے خدا کی اطاعت نہیں کی۔ اس نے اپنے اقرار روزہ کا عملی ثبوت نہیں دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page