Al-Risala · April 1980 · page 12

جنت اور جہنم

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۱۲

جنت ایک نہایت لطیف اور پاکییزہ مقام ہے، جو اللہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اپنے نیک بندوں کے لئے نہائے گا : عن جابر قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ان اهل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے لوگ کھائیں گے الجنة ياكلون فيها يشربون ولا يتفلون ولا يبولون اور نہیں گے مگر وہ نہ تھوکیں گے اور نہ پیشاب کریں گے اور نہ ولا يتغوطون ولا يمتخطون ۔ قالوا فما بال الطعام پاخانہ کریں گے۔ لوگوں نے پوچھا پھر کھانے کا کیا ہوگا۔ فرمایا: قال حشاء درشح کوشیح المسک يلهمون التسبيح د ڈکار اور پسینہ نکلے گا جو مشک کی طرح خوشبودار ہوگا۔ ان کو حمد والتحميد كما تلهمون النفس، (مسلم) اور تسبیح اسی طرح الہام کی جائے گی جس طرح تم سانس لیتے ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہے جہاں میل اور کثافت بھی خوشبو کی صورت میں خارج ہوتی ہے، پھر ایسی دنیا میں وہ لوگ کیوں کر داخل ہوں گے جو اپنی کثافت کو صرف کثافت کی صورت میں خارج کرنا جانتے ہوں۔ بغض، نفرت ، حسد، انتقام اور کبر و ظلم یہ سب انسان کی نفسیات کا میل کچیل ہے۔ جو لوگ اپنے میل کچیل کو صرف میل کچیل کی صورت میں ظاہر کرنا جانتے ہوں وہ جنت میں بسائے جانے کے قابل نہیں۔ جنت خدا کے ان بندوں کی کالونی ہے جو اپنے اندر کے میل کو بھی پاک کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔ جنت میں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو نفرت کے مواقع پر محبت کریں۔ جو انتقام کے مواقع پر معاف کردیں۔ جو حسد اور بغض کے مواقع پر خیر خواہی کا ثبوت دیں۔ جو کبر کے مواقع پر خاکساری دکھائیں اور ظلم کے مواقع پر انصاف کا رویہ اختیار کریں۔ یہ گویا اپنے میل اور کثافت کو خوشبو کی صورت میں ظاہر کرنا ہے ، انھیں خصوصیات والے لوگ جنت کی کالونیوں میں بسائے جائیں گے۔

دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں بار بار آدمی کو نا خوش گوار صورت حال سے سابقہ پیش آئے۔ یہ موجودہ دنیا کے دارالامتحان ہونے کا تقاضا ہے۔ ان ناخوش گوار مواقع پر جو شخص مثبت ردعمل کا اظہار کرے گا وہ جنت کا مستحق بنا اور جو منفی جذبات کا شکار ہو جائے اس نے اگلی زندگی میں اپنے لئے جنت کا استحقاق کھو دیا۔ جنت کی فضاؤں میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کا یہ حال ہو کہ ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ مایوس نہ ہوں بلکہ صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ کسی سے ان کو تکلیف پہنچے تو اس کے حق میں دعائیں دیں۔ کسی سے معاملہ پڑے تو انصاف کے مطابق اس کے حقوق ادا کریں۔ کوئی تنقید کرے تو اس کو برا مانے بغیر ٹھنڈے دل سے سنیں، کسی سے خواہ کتنی ہی شکایت ہو اس کے بارے میں عدل کا رویہ نہ چھوڑیں۔ جب بھی کسی سے معاملہ پڑے تو دوسرے شخص کو ان سے بہتر سلوک کا تجربہ ہو۔ حتی کہ دوسروں کے ناخوش گوار رویہ سے اپنے سینہ میں اگر نفرت و عداوت کے جذبات پیدا ہوں تب بھی اس کو پی جائیں اور اپنے مخالفانہ جذبہ کو خیر خواہی اور انصاف کی صورت میں ظاہر کریں۔ وہ دنیا کی زندگی میں خدا کا ایسا پھول بن جائیں جو اپنی کثافت کو بھی خوشبو کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔ ایسی پاک زندگی گزارنے کی توفیق ان لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ کو اس طرح یاد کرنے لگیں جس طرح کوئی آدمی سانس لیتا ہے۔ وہ اللہ کو اس طرح پالیں کہ وہ ان کی روح کے اندر تیر جائے۔ وہ ان کی دل کی دھڑکنوں میں شامل ہو جائے ۔ وہ اللہ کے خوف و محبت میں بنا اٹھیں۔

وہ مواقع جب کہ آدمی کے اندر سرکشی کی آگ بھڑکتی ہے، اس وقت مومن کو تواضع کے ساتھ جھک جانا ہے، جب نفرت کے جذبات امڈتے ہیں، اس وقت اس کو محبت کا رویہ اختیار کرنا ہے۔ جب بد خواہی کی نفسیات ابھرتی ہے، اس وقت اس کو خیر خواہی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page