اتحاد کی آسان تدبیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۱۹
آل عمران ۴ تذکیر القرآن اور ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو دشمن کو بھی زخم پہنچا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تا کہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور تا کہ اللہ ایمان والوں کو چھانٹ لے اور انکار کرنے والوں کو مٹا دے۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالاں کہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانا نہیں جنھوں نے جہاد کیا اور نہ ان کو جو ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ اور تم موت کی تمنا کر رہے تھے اس سے ملنے سے پہلے ، سو اب تم نے اس کو کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ۱۳۹ - ۳۳ ایمان لانا گویا اللہ کے لئے جینے اور اللہ کے لئے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میں ان کو رد کر دیا تھا ان کے او پران کواپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لئے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ مومن خواہ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان و اسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہر حال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر۔ جو لوگ اس جہاد اور صبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ "جہاد" ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور "صبر" اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہو جائیں اس کے لئے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہو جاتی ہے جتنی موافق زمین میں ایک بیج کا بار آور ہونا۔
ایک شخص اللہ کے راستہ پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ یہ مسائل کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کرتے ہیں، کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لئے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو رد عمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرار ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا، اگر اس کا عمل اس کے دعوی ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا ۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پرواہ نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکیں ۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان و مال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعد ہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ قرار دے۔ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے ۔ نیز یہ کہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues