اتحاد کی آسان تدبیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۲۰
محمد اس ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردئے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔ اور جو شخص پھر جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر گزاروں کو بدلہ دے گا۔ اور کوئی جان مر نہیں سکتی بغیر اللہ کے حکم کے ۔ اللہ کا لکھا ہوا وعدہ ہے۔ اور جو شخص دنیا کا فائدہ چاہتا ہے اس کو ہم دنیا میں سے دے دیتے ہیں اور جو آخرت کا فائدہ چاہتا ہے اس کو ہم آخرت میں سے دے دیتے ہیں۔ اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کا بدلہ ضرور عطا کریں گے۔ اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے نہ انہوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ رہے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ ان کی زبان سے اس کے سوا کچھ اور نہ نکلا کہ اے ہمارے رب ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمارے کام میں ہم سے جو زیادتی ہوئی اس کو معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور منکر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ پس اللہ نے ان کو دنیا کا بدلہ بھی دیا اور آخرت کا اچھا بدلہ بھی۔ اور اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۳۸ - ۱۴۳ احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں بہت پستی پیدا ہو گئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو زہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لئے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لئے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہو جائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ زندگی اس کے لئے ایک ایسی نا پائیدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اذن کے تحت ہو رہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھیننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کے عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لئے ہیں۔ تاہم یہ درجہ کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظریں جمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا بر باد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے ۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے، کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جا رہا ہے کبھی ان ہلا دینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے ، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لئے تیار ہو تو گو یاوہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میں وہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنہوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبے میں شامل کر دیا ہو ۔ نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ خنی پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہل ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues