Al-Risala · April 1980 · page 21

اتحاد کی آسان تدبیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱

اے ایمان والو اگر تم منکروں کی بات مانو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر دیں گے پھر تم ناکام ہو کر رہ جاؤ گے۔ بلکہ اللہ تمھارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مدد کرنے والا ہے۔ ہم منکروں کے دلوں میں تمھارا رعب ڈال دیں گے کیوں کہ انہوں نے ایسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جس کے حق میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے ظالموں کے لئے۔ اور اللہ نے تم سے اپنے وعدہ کو سچا کر دکھایا جب کہ تم ان کو اللہ کے حکم سے قتل کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب تم کمزور پڑ گئے اور تم نے کام میں جھگڑا کیا اور تم کہنے پر نہ چلے جب کہ اللہ نے تم کو وہ چیز دکھادی تھی جو کہ تم چاہتے تھے۔ تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور تم میں سے بعض آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے تمھارا رخ ان سے پھیر دیا تا کہ تمھاری آزمائش کرے اور اللہ نے تم کو معاف کر دیا اور اللہ ایمان والوں کے حق میں بڑا فضل والا ہے۔ جب تم چڑھے جا رہے تھے اور مڑ کر بھی کسی کو نہ دیکھتے تھے اور رسول تم کو تمھارے پیچھے سے پکار رہا تھا۔ پھر اللہ نے تم کو غم پر غم دیا تا کہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمھارے ہاتھ سے چوک گئی اور نہ اس مصیبت پر جو تم پر پڑے۔ اور اللہ خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو ۵۳ - ۱۳۹ جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدا کی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں "احد" کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لئے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرانہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔ مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدائی نصرت رعب نازل ہوتی ہے۔ جو شخص بارگاہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقتاً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لئے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جہاد کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہلِ باطل کی صفوں میں انتشار شروع ہو جاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی ہے۔ وہ اہل حق کے مقابلہ میں ناکام و نامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔

مسلمانوں کے لئے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے ۔ اور وہ ہےتنازع فی الامر یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ الگ ہو جانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہو سکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہو جائیں۔ اس لئے کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحدہ اور نتیجہ طافَت در رہے گی۔ اور جب رایوں کا اختلاف کر کے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لاز ماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page