اتحاد کی آسان تدبیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۲۶
پھر اللہ نے تمھارے اوپر غم کے بعد اطمینان اُتارا یعنی اندھیر کہ اس کام میں سے ایک جماعت پر غلبہ سو رہا تھا اور ایک جماعت وہ تھی کہ اس کو اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی ۔ وہ اللہ کے بارے میں خلافِ حقیقت خیالات، جاہلیت کے خیالات قائم کر رہے تھے ۔ وہ کہتے تھے کیا ہمارا بھی کچھ اختیار ہے ۔ کہو سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے ۔ وہ اپنے دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس معاملہ میں کچھ ہمارا بھی دخل ہوتا تو ہم اوراں نہ مارے جاتے ۔ کہو اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا لکھا گیا تھا وہ اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل پڑتے ۔ یہ اس لیے ہوا کہ اللہ کو آزمانا تھا جو کچھ تمھارے سینوں میں ہے اور نکھارنا تھا جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے ۔ اور اللہ جانتا ہے سینوں والی بات کو ۔ تم میں سے جو لوگ پھر گئے تھے اس دن کہ دونوں گروہوں میں بھیڑ بھری ہوئی ان کو شیطان نے ان کے بعض اعمال کے سبب سے پھسلا دیا تھا ۔ اللہ نے ان کو معاف کر دیا ۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ ٥٥-١٥٤ زندگی کے معرکہ میں سب سے زیاوہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آدمی کا چین اس سے رخصت نہ ہو ۔ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا منصوبہ بنانے کے قابل رہے۔ اللہ پر بھروسہ کی وجہ سے اہل ایمان کو یہ چیز کمال درجہ میں حاصل ہوتی ہے، حتیٰ کہ ہلا دینے والے مواقع پر جب کہ لوگوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں، اس وقت بھی وہ اس قابل رہتے ہیں کہ ایک نیند لے کر دوبارہ تازہ دم ہو سکیں۔ :حدیہ کہ موقع پر اس کا بڑا، انٹا ہرہ؛ اس طرح ہزائمہ لسٹ کے بدترین ترین حالات کے باوجود وہ ہو سکے اور اگلے دن حرمان الاسد تک دشمن کا پیچھا کیا جو مدینے سے ، میل کے فاصلہ پر ہے۔ اس کے نتیجہ میں فاتح دشمن مرعوب ہوکر مکہ واپس چلا گیا۔ یہ سچے اہل ایمان کا حال ہے۔ مگر جو لوگ پورے معنوں میں اللہ کو اپناولی وسر پرست بنائے ہوئے نہ ہوں۔ ان کو ہر طرف بس اپنی جان کا خطرہ نظر آتا ہے۔ دین کی فکر سے خالی لوگ اپنی ذات کی فکر میں پڑے رہتے ہیں وہ اللہ کی نصرت اطمینان میں سے اپنا حصہ نہیں پاتے۔ احد کے موقع پر عبداللہ بن ابی کی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر جنگ کی جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخلص مسلمانوں کے مشورہ پر باہر نکلے اور احد پہاڑ کے دامن میں، مقابلہ کیا۔ درہ پر متعین دستے کی غلطی سے جب شکست ہوئی تو اُن لوگوں کو موقع ملا۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ اگر ہماری بات مانی ہوتی اور مدینہ میں رہ کر لڑتے تو اس بربادی کی نوبت نہ آتی۔ مگر موت خدا کی طرف سے ہے اور دہمیں اگر رہتی ہے جہاں دہ کسی کے لئے لکھی ہوئی ہے۔ احتیاطی، تدبیر پر کوئی کو موت سے بچا نہیں سکتیں ۔ اس طرح کے واقعات، خواہ بظاہر ان کا جو سبب بھی نظر آئے ، وہ اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ کے سچے بندے، اللہ کی طرف ر جوع کر کے مزید رحمتوں کے مستحق بنیں۔ اور جو سچے نہیں، ان کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے۔
احد کے درہ پر جو پچاس تیر انداز متعین تھے جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو فتح ہوگئی ہے تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اصرار کیا کہ چل کر مال غنیمت لوٹیں۔ مگر عبداللہ بن جبیر اور ان کے کچھ ساتھیوں نے کہا نہیں۔ ہم کو ہر حال میں یہیں رہنا ہے کیونکہ یہی رسول اللہ کا حکم ہے۔ بالآخر گیارہ کو چھوڑ کر بقیہ لوگ چلے گئے۔ باہمی اختلاف کی اس کمزوری سے شیطان نے اندر داخل ہونے کا راستہ پایا۔ تاہم انھوں نے جب اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو اللہ نے ان کو معاف کر دیا یہ ابتدائی نقصان کے بعد ان کی مدد اس طرح کی کہ دشمنوں کے دل میں رُعب ڈال کر ان کو واپس کر دیا ۔ حالانکہ اس وقت وہ مدینہ سے صرف چند میل کے فاصلے پر رہ گئے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues