اتحاد کی آسان تدبیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۲۳
اے ایمان والو تم ان لوگوں کی مانند نہ ہو جانا جنھوں نے انکار کیا۔ وہ اپنے بھائیوں کی نسبت کہتے یہیں، جب کہ وہ سفر یا جہاد میں نکلتے ہیں ور ان کو موت آجاتی ہے، کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ تاکہ اللہ اس کو ان کے دلوں میں سبب حسرت بنا دے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ تو اللہ کی مغفرت اور رحمت اس سے بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔ اور تم مر گئے یا مارے گئے بہر حال تم اللہ ہی کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان کے لئے نرم ہو۔ اگر تم تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے پاس سے بھاگ جاتے۔ پس ان کو معاف کر دو اور ان کے لئے مغفرت مانگو اور معاملات میں ان سے مشورہ لو۔ پھر جب فیصلہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اگر اللہ تمھارا ساتھ دے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمھارا ساتھ چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمھاری مدد کرے۔ اور اللہ ہی کے اوپر بھروسہ کرنا چاہئے ایمان والوں کو۔ ۶۰ - ۱۵۰ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تاہم یہاں ہر چیز پر اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ واقعات بظاہر اسباب کے تحت ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً وہ اللہ کے حکم کے تحت ہو رہے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری اسباب میں نہ اٹکے بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والی قدرت خداوندی کو دیکھ لے۔ غیر مومن وہ ہے جو اسباب میں کھو جائے اور مومن وہ ہے جو اسباب سے گزر کر اصل حقیقت کو پالے۔ ایک شخص مومن ہونے کا مدعی ہو مگر اسی کے ساتھ اس کا ہاں نہ ہو کہ زندگی دعوت اور کامیابی ناکامی کو وہ تدبیروں کا نتیجہ سمجھتا ہو تو اس کا ایمانی دعویٰ معتبر نہیں۔ غیر مومن کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ اس غم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میں نے فلاں تدبیر کی ہوتی تو میں حادثہ سے بچ جاتا۔ مگر مومن کے ساتھ جب کوئی حادثہ گزرتا ہے تو وہ یہ سوچ کر مطمئن رہتا ہے کہ اللہ کی مرضی ہی تھی۔ جو لوگ دنیوی اسباب کو اہمیت دیں وہ اپنی پوری زندگی دنیا کی چیزوں کو فراہم کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ ”مرنے“ سے زیادہ ”جینا“ ان کو عزیز ہو جاتا ہے۔ مگر پانے کی اصل چیز وہ ہے جو آخرت ہے یعنی اللہ کی جنت و مغفرت اور جنت وہ چیز ہے جس کو صرف زندگی ہی کی قیمت پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آدمی کا وجودہی جنت کی واحد قیمت ہے۔ آدمی اگر اپنے وجود کو نہ دے تو وہ کسی اور چیز کے ذریعہ جنت حاصل نہیں کر سکتا۔
اہل ایمان کے ساتھ جس اجتماعی سلوک کا حکم پیغمبر کو دیا گیا ہے وہی عام مسلم سربراہ کے لئے بھی ہے۔ مسلم سربراہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ نرم دل اور نرم گفتار ہو۔ یہ نرمی صرف روز مرہ کی عام زندگی ہی میں مطلوب نہیں ہے بلکہ ایسے غیر معمولی مواقع پر بھی مطلوب ہے جب کہ اسلام اور غیر اسلام کے تصادم کے وقت لوگوں سے ایک حکم کی نافرمانی ہو اور نتیجہ میں ہوئی ہوئی جنگ ہار میں بدل جائے۔ سربراہ کے اندر جب تک یہ وسعت اور بلندی نہ ہو طاقت اور اجتماعیت قائم نہیں ہو سکتی۔ غلطی خواہ کتنی ہی بڑی ہو، اگر وہ صرف ایک غلطی ہے، شرپسندی نہیں ہے تو وہ قابل معافی ہے۔ سربراہ کو چاہیے کہ اسی نظر ثانی اور ملالہ وہ لوگوں سے معاملہ کرے۔ حتی کہ زہ لوکوسا کالجنا خیر خواہ ہو کہ ان کے حق میں اس کے دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔ اس کی نظر میں لوگوں کی اتنی قدر ہوکہ معاملات میں وہ ان سے مشورہ لے۔ جب آدمی کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ ہو تاہے خدا کے کہے سے ہوتا ہے تو اس کے بعد انسانی اسباب اس کی نظر میں ناقابل لحاظ ہو جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues