اتحاد کی آسان تدبیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۲۴
اور نبی کا یہ کام نہیں کہ وہ کچھ چھپارکھے اور جو کوئی چھپائے گا وہ اپنی چھپائی ہوئی چیز کو قیامت کے دن حاضر کرے گا۔ پھر ہر جان کو اس کے کئے ہوئے کا پورا بدلہ ملے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔ کیا وہ شخص جو اللہ کی مرضی کا تابع ہے وہ اس شخص کے مانند ہو جائے گا جو اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیسا براٹھکانا ہے۔ اللہ کے یہاں ان کے درجے الگ الگ ہوں گے ۔ اور اللہ دیکھ رہا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا کہ ان میں انھیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اللہ کی آیتیں سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ بے شک یہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے ۱۶۴۔
احد کے درہ پر متعین جن چالیس افراد نے نافرمانی کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کر دیا تھا۔ تاہم ان لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ آپ نے شاید صرف اوپری طور پر ہم کو معاف کیا ہے۔ دل میں آپ اب بھی خفا ہیں اور کسی وقت ہمارے اوپر خفگی نکالیں گے۔ فرمایا کہ یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں۔ پیغمبر اندر اور باہر ایک ہوتا ہے، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سربراہ کو کیسا ہونا چاہئے۔ مسلم سربراہ کا دل ایسا ہونا چاہئے کہ اس کے اندر بغض، نفرت، کینہ اور حسد بالکل جگہ نہ پاسکے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ اس کے ساتھیوں سے ایک بھیا نک غلطی ہوگئی ہو۔ مسلم سربراہ کو چاہئے کہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے والوں کے خلاف بھی وہ دل میں کوئی جذبہ چھپا کر نہ رکھے۔ آج کے دن ان کے ساتھ اس طرح رہے جیسے پچھلے دن ان سے کچھ نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جب ایک سربراہ پر اعتماد کر کے اپنے معاملات کو اس کے سپرد کر دے تو سربراہ کو ایسا کبھی نہ کرنا چاہئے کہ ان کے جان و مال کو وہ اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل پر قربان کر دے۔ یہ اللہ کے غضب سے بے خوف ہونا ہے۔ جو شخص لوگوں کو یہ بتانے کے لئے اٹھا ہو کہ خوب اللہ کی مرضی پر چلیں وہ خود لیسں گمراہ ہے اس اللہ سے ملنا پسند کرے گا کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف جینا ہو۔
پیغمبر نے اپنی زندگی سے جو مثالی نمونہ قائم کیا ہے، قیامت تک تمام مصلحین کو اسی کے مطابق بننا ہے۔ اصلاح کے کام کے لئے ضروری ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان کام کرنے اٹھے ان کو ہر اعتبار سے وہ اپنا نظر آئے اس کی زبان، اس کا طرزِ کلام، اس کی رکن سہن ہر چیز اجنبیت سے پاک ہو۔ تجرہ نہ اپنے اور اپنے مخالفین کے درمیان ایسی فضا نہ بنائے، جو کسی پہلو سے ایک دوسرے کو دور کرنے والی ہو یا ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں فرق بنا کر کھڑا کر دے۔ لوگوں کے درمیان جو کام کرنا ہے وہ سب سے پہلے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھنے لگیں جو ان کی ذات میں اور باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ نہ اللہ کی گلیوں کو جان کر ان کو اپنے ذہن کا جزو بنائیں۔ دوسرا کام تزکیہ ہے۔ یہ مقصد ہے بانی گفتگو، اور صحبت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی تحریر اور تقریر میں بابت زیادہ تر اصولی انداز میں ہوتی ہے جب کہ انفرادی گفتگوؤں میں بات زیادہ متعین اور زیادہ مفصل صورت میں ہوتی ہے۔ نیز داعی کا اپنا و جودبھی پوری طرح اس کی تقویت پر موجود رہتا ہے۔ عمومی کلام اگر دعوت ہوتا ہے تو انفرادی ملاقاتیں مدعو کے لئے تزکیہ کے ہم معنی بن جاتی ہیں۔ تیسری چیز کتاب ہے، یعنی زندگی گزارنے کی بات آسمانی ہدایات کو بتانا جس کا دوسرا نام شریعت ہے اور یہ جوتی چیز حکمت ہے۔ یعنی بین کے گہرے صید زوں سے پردہ اٹھانا۔ بین سطور میں چھپے ہوئے حقائق کو نمایاں کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues