اتحاد کی آسان تدبیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۲۵
اور جب تم کو ایسی مصیبت پہنچی جس کی دگنی مصیبت تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا کہ یہ کہاں سے آگئی۔ کہو یہ تمہارے اپنے پاس سے ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور دونوں جماعتوں کی مڈ ہمیڑ کے دن تم کو جو مصیبت پہنچی وہ اللہ کے حکم سے پہنچی اور اس واسطے کہ اللہ مومنین کو جان لے اور ان کو بھی جان لے جو منافق تھے جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو دفع کرو۔ انھوں نے کہا اگر ہم جانتے کہ جنگ ہونا ہے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ یہ لوگ اس دن ایان سے زیادہ کفر کے قریب تھے۔ وہ اپنے منھ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ اس چیز کو خوب جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں۔ یہ لوگ خود بیٹھے وہے، اپنے بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے۔ کہو تم اپنے اوپر سے موت کو ہٹا دو اگر تم سچے ہو۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو۔ بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، ان کو روزی مل رہا ہے۔ وہ خوش ہیں اس پر جو اللہ نے اپنے فضل میں سے ان کو دیا ہے اور خوش خبری لے رہے ہیں کہ جو لوگ ان کے پیچھے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لئے بھی نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ رہ خوش ہو رہے ہیں اللہ کے انعام اور فضل پر اور اس پر کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے حکم کو مانا بعد اس کے کہ ان کو زخم لگ چکا تھا، ان میں سے جو نیک اور متقی ہیں ان کے لئے بڑا اجر ہے۔ جن سے لوگوں نے کہا کہ دشمن نے تمھارے خلاف بڑی طاقت جمع کر لی ہے اس سے ڈرو۔ لیکن اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بولے کہ اللہ تمہارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔ پس وہ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس آئے مان لوگوں کو کوئی برائی پیش نہ آئی۔ اور وہ اللہ کی رضا مندی پر چلے اور اللہ بڑا فضل والا ہے۔ یہ شیطان ہے جو تم کو اپنے دوستوں کے ذریعہ ڈراتا ہے۔ تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ حق و باطل کے مقابلہ میں آخری فتح حق کو ہوتی ہے کیونکہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شرپسندوں کو بھی عمل کی پوری آزادی ہے۔ اس لئے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل حق کی کسی کمزوری، مثلاً با بھی اختلاف۔ سے فائدہ اٹھاکر شر پسند ان کو وقتی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ تا ہم اس طرح کے واقعات کا ایک مفید پہلو بھی ہے۔ اس کے ذریعہ خود مسلمانوں کی جماعت کی جانچ ہو جاتی ہے۔ نا موافق حالات کو دیکھ کر غیر مخلص لوگ چھٹ جاتے ہیں اور جو سچے مسلمان ہیں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ کون قابل اعتماد اور کون ناقابل اعتماد۔ مزید یہ کہ اتفاقی غلطی سے نقصان اٹھانے کے بعد جب اہلِ ایمان دوبارہ صبر اور انابت اور توکل علی اللہ کا ثبوت دیتے ہیں تو خدا کی رحمت ان کی طرف پہلے سے بھی زیادہ متوجہ ہو جاتی ہے۔
حق و باطل کے معرکہ میں جو لوگ اس طرح شرکت کریں کہ اسی کی راہ میں اپنے کو مٹا دیں، ان کے متعلق اہل دنیا اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے خود خواہ مخواہ اپنے کو بر باد کر لیا۔ مگر یہ صرف نادانی کی بات ہے ۔ اللہ کی راہ میں کھونا ہی تو سب سے بڑا پاتا ہے۔ کیوں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیں وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues