Al-Risala · April 1980 · page 26

اتحاد کی آسان تدبیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۲۶

اور وہ لوگ تمہارے لیے باعث غم نہ بنیں جو انکار میں سبقت کر رہے ہیں۔ وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے۔ ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر کو خریدا ہے وہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ اور جو لوگ کفر کر رہے ہیں وہ خیال نہ کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ ہم تو بس اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ جرم میں اور بڑھ جائیں اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ اللہ وہ نہیں کہ مسلمانوں کو اس حالت پر چھوڑ دے جس طرح کہ تم اب ہو جب تک کہ وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کرلے۔ اور اللہ یوں نہیں کہ تم کو غیب سے خبردار کر دے۔ بلکہ اللہ چھانٹ لیتا ہے اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے۔ پس تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ اور اگر تم ایمان لاؤ اور پر ہیزگاری اختیار کرو تو تمہارے لیے بڑا اجر ہے (۱۹، ۱۷۶ زندگی کا اصل مسئلہ وہ نہیں جو دکھائی دے رہا ہے، اصل مسئلہ وہ ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہے۔ لوگ دنیا کے جہنم سے بچنے کی فکر کرتے ہیں اور اپنی ساری توجہ دنیا کی جنت کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ مگر زیادہ عقل مندی کی بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کے جہنم سے اپنے کو بچائے اور وہاں کی جنت کی طرف دوڑے ۔ دنیا میں پیسہ والا ہونا اور بے پیسہ والا ہونا، جائداد والا ہونا اور بے جائیداد والا ہونا، عزت والا ہونا اور بے عزت والا ہونا، یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہر آدمی کو آنکھوں سے نظر آتی ہیں۔ اس لیے وہ ان پر ٹوٹ پڑتا ہے، وہ اپنی ساری کوشش اس مقصد کے لیے لگا دیتا ہے کہ وہ یہاں محروم نہ رہے۔ مگر انسان کا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے جس کو اللہ نے امتحان کی مصلحت سے چھپا دیا ہے اور اس سے لوگوں کو خبر دار کرنے کے لیے یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ اپنے کچھ بندوں کو غیب کی پیغام بری کے لیے چنے۔ ان کو موت کے اس پار کی حقیقتوں سے خبردار کرے اور پھر ان کو مقرر کرے کہ وہ دوسروں کو اس سے باخبر کردیں۔ انسان کی اصل جانچ یہ ہے کہ وہ خدا کے داعی کی آواز میں سچائی کی جھلکیاں کو پائے ، نہ ایک لفظی پکار میں حقیقت کی عملی تصویر دیکھ لے۔ یہ اپنے جیسے ایک انسان کی باتوں میں خدائی بات کی گونج سن لے۔

ایمان یہ ہے کہ آدمی خود پسندی نہ کرے۔ کیوں کہ خود پسندی خدا کے بجائے اپنے آپ کو بڑائی کا مقام دینا ہے۔ وہ دنیا میں غرق نہ ہو۔ کیوں کہ دنیا میں غرق ہونا ظاہر کرتا ہے کہ آدمی آخرت کو اصل اہمیت نہیں دیتا۔ وہ کبر، بخیل ، نا انصافی اور غیر اللہ کی عقیدت و محبت سے اپنے کو بچائے اور اس کے بجائے خدا پرستی، تواضع، فیاضی اور انصاف پسندی کو اپنا شیوہ بنائے۔ ایسا کرنا ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے ایمان میں سنجیدہ ہے۔ اس نے فی الواقع اپنے آپ کو خدا اور آخرت کی طرف لگا دیا ہے۔ اور ایسا نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان میں سنجیدہ نہیں۔ اقرار ایمان کے باوجود عملاً وہ اسی دنیا میں جی رہا ہے جہاں دوسرے لوگ جی رہے ہیں۔ آخرت میں خبیث روحوں اور طیب روحوں کی جو تقسیم ہوگی وہ حقیقت کے اعتبار سے ہوگی نہ کہ محض ظاہری نمائش کے اعتبار سے۔ دنیا میں برے لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی ہے وہ صرف اس لیے ہے کہ وہ اپنے اندر کی برائی کو پوری طرح ظاہر کر دیں۔ مگر وہ خواہ کتنی ہی کوشش کریں وہ اپنی ترقی کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی آزادی کو صرف اپنے خلاف استعمال کر سکتے ہیں نہ دوسروں کے خلاف۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page