Al-Risala · April 1980 · page 35

اتحاد کی آسان تدبیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۵

اور جو لوگ بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل میں سے دیا ہے وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے حق میں اچھا ہے ۔ بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے۔ جس چیز میں وہ بخل کر رہے ہیں اس کا قیامت کے دن ان کو طوق پہنایا جائے گا۔ اور اللہ ہی وارث ہے زمین و آسمان کا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ اللہ نے ان لوگوں کا قول سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں۔ ہم لکھ لیں گے ان کے اس قول کو اور ان کے پیغمبروں کو ناحق مار والے کو بھی۔ اور ہم کہیں گے کہ اب آگ کا عذاب چکھو۔ یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اور اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نا انصافی کرنے والا نہیں ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم کیسی رسول کو تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی پیش نہ کرلے جس کو آگ کھائے، ان سے کہو کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس رسول آئے کھلی نشانیاں لے کر اور وہ چیز لے کر جس کو تم کہہ رہے ہو پھر تم نے کیوں ان کو مار ڈالا، اگر تم سچے ہو۔ پس اگر یہ تم کو جھٹلاتے ہیں تو تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں جو کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ ہر شخص کو موت کا موہ چکھنا ہے اور تم کو پورا اجر تو بس قیامت کے دن ملے گا ۔ پس جو شخص آگ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کیا جائے وہی کامیاب رہا اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سودا ہے - ۱۸۰ ظاہری طور پر آدمی ایک قول دے کر مومن بن جاتا ہے مگر اللہ کی نظر میں وہ اس وقت مومن بنتا ہے جب کہ وہ اپنی جان اور اپنے مال کا اللہ کی راہ میں دے دے۔ جان و مال کی قربانی کے بغیر کسی کا ایمان اللہ کے یہاں معتبر نہیں۔ آدمی اپنے مال کو اس لئے بچاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے دنیوی مستقبل کا تحفظ کر رہا ہے۔ مگر آدمی کا حقیقی مستقبل وہ ہے جو آخرت میں سامنے آنے والا ہے اور آخرت کی دنیامیں ایسابچایا ہو امال آدمی کے حق میں صرف وبال ثابت ہوگا۔ جو مال دنیا میں زینت اور فخر کا ذریعہ دکھائی دے رہا ہے وہ آخرت میں خدا کے حکم سے سانپ کی صورت اختیار کرے گا جو ابدی طور پر اس کو ڈستا رہے جو لوگ قربانی ڈالنے دین کو نہیں اپناتے وہ اپنے کو صحیح ثابت کرنے کے لئے مختلف باتیں کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ مال خدا نے ہماری ضرورت کے لئے پیدا کیا ہے پھر کیوں نہ ہم اس کو اپنی ضرورتوں میں خرچ کریں اور اس سے اپنے دنیوی آرام کا سامان کریں کبھی ان کی بے حسی ان کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ زہ خود داعی حق کو مشتبہ کرنے کے لئے طرح طرح کے شوشے نکالتے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ شخص سچا داعی ہی نہیں جس کا ظہور یہ تقاضا کر رہا ہے کہ اپنی زندگی اور اپنے مال کو قربان کر کے اس کا ساتھ دیا جائے۔ اس قسم کے لوگ جو باتیں کہتے ہیں وہ بظاہر دلیل کے روپ میں موتی ہیں مگر حقیقتاً وہ ایمانی تقاضوں سے فرار کے لئے ہیں۔ اس لئے خواہ کسی ہی دلیل پیش کی جائے وہ اس کو رد کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ الفاظ تلاش کر لیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ان کا آخری انجام موت ہے؛ اور موت کا مرحلہ سامنے آتے ہی صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ موت تمام چھوٹے سہارے کو باطل کر دے گی، اس کے بعد آدمی اپنے آپ کو ٹھیک اس مقام پر کھڑا ہوا پائے گا جہاں وہ حقیقۃً تھا نہ کہ اس مقام پر جہاں وہ اپنے آپ کو ظاہر کر رہا تھا۔ موجودہ دنیا میں کسی کا ترقی کرنا یا موجودہ دنیا میں کسی کا ناکام ہو جانا، دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی سطح کی چیزیں ہیں۔ نہ یہاں کی نعمتیں کسی کے بر سر حق ہونے کا ثبوت ہیں اور نہ کسی کا یہاں مشکلات و مصائب میں مبتلا ہونا اس کے بر سر باطل ہونے کا ثبوت، کیوں کہ دونوں ہی امتحان کے نقشے ہیں نہ کہ انجام کی علامتیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page