Al-Risala · April 1980 · page 36

اتحاد کی آسان تدبیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۶

تذکیر القرآن آل عمران ۳ یقیناً تم اپنے جان اور مال میں آزمائے جاؤ گے۔ اور تم بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ان سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا۔ اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام وہے۔ اور جو اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم خدا کی کتاب کو پوری طرح ظاہر کر دو گے اور اس کو نہیں چھپاؤ گے۔ مگر انہوں نے اس کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ کیسی بری چیز ہے جس کو وہ خرید رہے ہیں۔ جو لوگ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہنے لگتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ اور اللہ ہی کے لئے ہے زمین و آسمان کی بادشاہی، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۱۸۶ - 186-189 ایمان کا سفر آدمی کو ایسی دنیا میں طے کرنا ہوتا ہے جہاں اپنوں اور غیروں کی طرف سے طرح طرح کے زخم لگتے ہیں۔ مگر مومن کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ردِ عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو، وہ ہر صورتِ حال کا مثبت جواب دیتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے اشتعال دلانے والے مواقع پیش آتے ہیں مگر وہ پابند ہوتا ہے کہ ہر قسم کے جھٹکوں کا اپنے اوپر پہلے اور جوابی ذہن کے تحت کوئی کارروائی نہ کرے۔ بار بار ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جب کہ دل کہتا ہے کہ حدودِ خداوندی کو توڑ کر اپنا مدعا حاصل کیا جائے مگر اللہ کا ڈر اس کے قدموں کو روک دیتا ہے اسی طرح دین کی مختلف ضرورتیں سامنے آتی ہیں اور جان و مال کی قربانی کا تقاضا کرتی ہیں، ایسے مواقع پر آسان دین کو چھوڑ کر مشکل دین کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ایمان کے سفر کو ہمت اور عالی حوصلگی کا زبردست امتحان بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن بننا اپنے آپ کو صبر اور تقویٰ کے امتحان میں کھڑا کرنا ہے۔ جب اس امتحان میں پورا اتراو ہی وہ مومن بنجس کے لئے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔

آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خدا و رسول کا نام لینا چھوڑ دے یا خدا کی کتاب سے اپنی بے تعلقی کا اعلان کر دے۔ دین ایسے گروہ کی نسلی روایات میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ اس کا پر فخر قومی اثاثہ بن جاتا ہے۔ اور جس چیز سے اس طرح کا نسلی اور قومی تعلق قائم ہو جائے اس سے علیحدگی کسی گروہ کے لئے ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم اس کا تعلق محض کسی تعلق ہوتا ہے نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقی تعلق ۔ وہ اپنی دنیوی سرگرمیاں بھی دین کے نام پر جاری کئے ہیں، نہ کہ دین ہوکربھی اپنے کو دین دار کہلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کو اس کام کا کریڈٹ دیا جائے جس کو انہوں نے کیا نہیں۔ رہ نجات اخروی سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور اسی کے ساتھ ایسے عقیدے بنا لیتے ہیں جس کے مطابق ان کو اپنی نجات بالکل محفوظ نظر آتی ہے۔ وہ اپنے گھڑے ہوئے دین پر چلتے ہیں مگر اپنے کو دین خدا وندی کا علم بردار بتاتے ہیں۔ وہ دنیوی مقاصد کے لئے سرگرم ہوتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو آخرت کا عنوان دیتے ہیں۔ وہ خود ساخته سیاست چلاتے ہیں اور اس کو خدائی سیاست ثابت کرتے ہیں۔ وہ قومی مفادات کے لئے اٹھتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ خیرا لامم کا کردار ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر کوئی شخص بے دینی کو دین کہنے لگے تو اس بنا پر وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا ۔ ۔۔۔۔۔ آدمی دنیا کی طرف دوڑے، اور آخرت سے بے پروا ہو جائے تو یہ صرف گمراہی ہے اور اگر وہ اپنے دنیوی کاروبار بار کو خدا و رسول کے نام پر کرنے لگے تو یہ گمراہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کیوں کہ یہ ایسے کام پر انعام چا ہتا ہے جس کو آدمی نے انجام ہی نہیں دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page