Al-Risala · April 1980 · page 29

اتحاد کی آسان تدبیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹

آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب تو نے جس کو آگ میں ڈالا اس کو تو نے واقعی رسوا کر دیا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ۔ پس ہم ایمان لائے اے ہمارے رب ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ اے ہمارے رب تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے - ۱۹۰ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک خاموش اعلان ہے۔ آدمی جب اپنے کان اور آنکھ سے مصنوعی پردوں کو ہٹاتا ہے تو وہ اس خاموش اعلان کو ہر طرف سننے اور دیکھنے لگتا ہے۔ اس کو نا ممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسی کائنات جس کے ستارے اور سیارے کھربوں سال تک بھی ختم نہیں ہوتے وہاں انسان اپنی تمام خواہشوں اور تمناؤں کو لئے ہوئے صرف پچاس سال اور سو سال میں ختم ہو جائے۔ ایک ایسی دنیا جہاں درختوں کا حسن اور پھولوں کی لطافت ہے۔ جہاں ہوا اور پانی اور سورج جیسی بے شمار بامعنی چیزوں کا اہتمام کیا گیا ہے وہاں انسان کے لئے حزن اور غم کے سوا کوئی انجام نہ ہو۔ پھر یہ بھی اس کو نا ممکن نظر آتا ہے کہ ایک دنیا جہاں یہ اتھاہ امکان رکھا گیا ہے کہ یہاں ایک چھوٹا سا بیج زمین میں ڈالا جائے تو اس کے اندر سے ہرے بھرے درخت کی ایک پوری کائنات نکل آئے وہاں آدمی نیکی کی زندگی اختیار کر کے بھی اس کا کوئی پھل نہ پا تا ہو۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر روز تاریک رات کے بعد روشن دن آتا ہے وہاں صدیاں گزر جائیں اور عدل وانصاف کا اجالا اپنی چمک نہ دکھائے۔ ایک ایسی دنیا جس کی گود میں زلزلے اور طوفان سورہے ہیں وہاں انسان ظلم پر ظلم کرتا رہے مگر کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا سامنے نہ آئے۔ جو لوگ حقیقتوں میں جیتے ہیں اور گہرائیوں میں اتر کر سوچتے ہیں ان کے لئے ناقابل یقین ہو جاتا ہے کہ ایک بامعنی کائنات بے معنی انجام پر ختم ہو جائے۔ وہ جان لیتے ہیں کہ حق کا داعی جو پیغام دے رہا ہے وہ نطق کی زبان میں اسی بات کا اعلان ہے جو خاموش زبان میں ساری کائنات میں نشر ہو رہا ہے۔ ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ جب سچائی کھلے اور جب انصاف کا سورج نکلے تو اس دن وہ ناکام و نامراد نہ ہوجائیں۔ وہ اپنے رب کو پکارتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، وہ مفاد اور مصلحت کی تمام حدوں کو توڑ کر داعی حق کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ تاکہ جب کائنات کا اجالا اور کائنات کا اندھیرا ایک دوسرے سے الگ کئے جائیں تو کائنات کا مالک ان کو اجالے میں جگہ دے، وہ ان کو اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے کے لئے نہ چھوڑے۔

عقل اور بے عقلی کا حقیقی پیمانہ اس سے بالکل مختلف ہے جو انسانوں نے بطور خود بنا رکھا ہے۔ یہاں عقل والا وہ ہے جو اللہ کی یاد میں جئے، جو کائنات کے تخلیقی منصوبہ میں کام کرنے والی خدائی معنویت کو پالے ۔ اس کے برعکس بے عقل وہ ہے جو اپنے دل و دماغ کو دوسری دوسری چیزوں میں اگائے، جو دنیا میں اس طرح زندگی گزارے جیسے اس کو مالک کائنات کے تخلیقی منصوبہ کی خبر ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page