Al-Risala · April 1980 · page 30

اتحاد کی آسان تدبیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰

آل عمران ۳ تذکیر القرآن ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ ضرور تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، ان کی خطائیں میں ان سے دور کر دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور ملک کے اندر منکروں کی سرگرمیاں تم کو دھوکے میں نہ ڈالیں یہ تھوڑا سا فائدہ ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کی میزبانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے پاس نیک لوگوں کے لیے ہے وہی سب سے بہتر ہے۔ اور بے شک اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو تمھاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، وہ اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ اے ایمان والو، صبر کرو اور مقابلہ میں مضبوط رہو اور لگے رہو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہو گے۔ 195-200 ۔ ۲۰۰ - اہل ایمان کی ذمہ دارانہ زندگی ان کو نفس کی آزادیوں سے محروم کر دیتی ہے۔ ان کے اعلان حق میں بہت سے لوگوں کو اپنے وجود کی تردید دکھائی دینے لگتی ہے اور وہ ان کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ یہ صورت حال کبھی اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے وطن میں بے وطن کر دیے جاتے ہیں ۔ ان کو مخالفین کی ظالمانہ کارروائیوں کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اللہ کے دین کو انھیں جان و مال کی قربانی کی قیمت پر اختیار کرنا ہوتا ہے۔ ان امتحانات میں پورا اترنے کے لیے اہل ایمان کو جو کچھ کرنا ہے وہ یہ کہ وہ دنیا کی مصلحتوں کی خاطر آخرت کی مصلحتوں کو بھول نہ جائیں ۔ وہ مشکلات اور ناخوش گوار یوں پر صبر کریں ، وہ اپنے اندر ابھرنے والے منفی جذبات کو دبائیں اور متاثر ذہن کے تحت کوئی کارروائی نہ کریں۔ پھر ان کو باہر کے حریفوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا ہے۔ یہ ثابت قدمی ہی وہ چیز ہے جو اللہ کی نصرت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ تمام اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے رہیں، وہ دینی جدوجہد کے لئے با ہم جڑ جائیں اور ایک جان ہو کر اجتماعی قوت سے مخالف طاقتوں کا مقابلہ کریں۔ ایمان دراصل صبر کا امتحان ہے اور اس امتحان میں وہی شخص پورا اترتا ہے، جو اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خدا سے بے خوف اور آخرت سے بے پروا لوگوں کو زور اور غلبہ حاصل ہو جاتا ہے۔ ہر قسم کی عزّتیں اور رونقیں ان کے گرد جمع ہو جاتی ہیں ۔ دوسری طرف اہل ایمان اکثر حالات میں بے زور بنے رہتے ہیں۔ شان وشوکت کا کوئی حصہ ان کو نہیں ملتا۔ مگر یہ صورت حال انتہائی عارضی ہے۔ قیامت آتے ہی حالات بالکل بدل جائیں گے۔ بے خوفی کے راستے سے دنیا کی عزتیں سمیٹنے والے رسوائی کے گڑھے میں پڑے ہوں گے اور خوف خدا کی وجہ سے بے حیثیت ہو جانے والے ہر قسم کی ابدی عزتوں اور کامیابیوں کے مالک ہوں گے ۔ وہ اللہ کے مہمان ہوں گے اور اللہ کی مہمانی سے زیادہ بڑی کوئی چیز اس زمین و آسمان کے اندر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page