Al-Risala · April 1980 · page 31

اتحاد کی آسان تدبیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۱

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہسبان نہایت رحم والا ہے اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلادیں۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطہ سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور خبر دار رہو قرابت والوں سے۔ بے شک اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے۔ اور یتیموں کا مال ان کے حوالے کرو ۔ اور برے مال کو اچھے مال سے نہ بدلو اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملہ میں انصاف نہ کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تم کو پسند ہوں ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کرو۔ اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو یا جو کنیز تمہاری ملک میں ہو۔ اس میں امید ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو گے۔ اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔ پھر اگر وہ اس میں سے کچھ تمہارے لئے چھوڑ دیں اپنی خوشی سے تو تم اس کو ہنسی خوشی سے کھاؤ تمام انسان باعتبار پیدائش ایک ہیں۔ بالآخر ایک ہی عورت اور ایک ہی مرد سب کے ماں اور باپ ہیں۔ اس لحاظ سے ضروری ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کو اپنا سمجھے۔ سب کے رب ایک، مشترک گھرانے کے افراد کی طرح مل جل کر انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ رہیں۔ پھر ان میں جو رحمی رشتے ہیں ان میں نسلی اتحاد اور زیادہ قریبی ہو جاتا ہے اس لئے رحمی رشتوں میں حسن سلوک کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ انسانوں کے درمیان اس باہمی حسن سلوک کی اہمیت صرف اخلاقی اعتبار سے نہیں ہے بلکہ یہ خود آدمی کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے۔ کیوں کہ تمام انسانوں کے اوپر عظیم و برتر خدا ہے۔ وہ آخرت میں سب سے حساب لینے والا ہے اور دنیا میں ان کے عمل کے مطابق آخر میں ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ انسان کے معاملہ کو صرف انسان کا معاملہ نہ سمجھے بلکہ اس کو اللہ کا معاملہ سمجھے۔ وہ اللہ کی پکڑ سے ڈرے اور اپنے آپ کو اس عمل کا پابند بنائے جو اس کو اللہ کے غضب سے بچانے والا ہو۔

حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص رحم کو جوڑے گا میں اس سے جڑوں گا اور جو شخص رحم کو کاٹے گا میں اس سے کٹوں گا (من وصلھا وصلتہ ومن قطعها قطعتہ) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ سے تعلق کا امتحان بندوں سے تعلق کے معاملہ میں لیا جاتا ہے۔ وہی شخص اللہ سے ڈرنے والا ہے جو بندوں کے حقوق کے معاملہ میں اللہ سے ڈرے، وہی شخص اللہ سے محبت کرنے والا ہے جو بندوں کے ساتھ محبت میں اس کا ثبوت دے۔ یہ بات عام انسانی تعلقات میں بھی مطلوب ہے۔ مگر رحمی رشتوں سے حسن سلوک کے معاملہ میں اس کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف اللہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

یتیم لڑکے اور لڑکیاں کسی خاندان یا سماج کا سب سے زیادہ کمزور حصہ ہوتے ہیں، اس لئے خدا سے ڈر کا سب سے زیادہ سخت امتحان یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ یتیموں کے بارے میں وہی کرے جو انصاف اور خیر خواہی کا تقاضا ہو اور جس میں یتیموں کے حقوق زیادہ سے زیادہ محفوظ رہنے کی ضمانت ہو۔ یہ بہت گناہ کی بات ہے کہ مشترک اثاثہ کی ایسی تقسیم کی جائے جس میں اچھی چیزیں اپنے حصہ میں رکھ لی جائیں اور دوسرے کے حصہ میں خراب چیزیں ڈال کرگنتی پوری کر دی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page