اتحاد کی آسان تدبیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۲
النساء ۴ تدبر القرآن اور نا دانوں کو اپنا وہ مال نہ دو جس کو اللہ نے تمہارے لئے قیام کا ذریعہ بنایا ہے اور اس مال میں سے ان کو کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے بھلائی کی بات کہو۔ اور یتیموں کو جانچتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو اگر ان میں ہوشیاری دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو۔ اور ان کا مال اسراف سے اور اس خیال سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے نہ کھا جاؤ۔ اور جس کو حاجت نہ ہو وہ یتیم کے مال سے پر ہیز کرے اور جو شخص محتاج ہو وہ دستور کے موافق کھائے۔ پھر جب تم ان کا مال ان کے حوالے کرو تو ان پر گواہ ٹھہرا لو اور اللہ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔ ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکہ میں سے مردوں کا بھی حصہ ہے اور ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکہ میں سے عورتوں کا بھی حصہ ہے، تھوڑا ہو یا زیاوہ مبہ، ایک مقرر کیا ہوا حصہ۔ اور اگر تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج موجود ہوں تو اس میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان سے ہمدردی کی بات کہو۔ اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں بچے چھوڑ جاتے تو انہیں ان کی بہت فکر رہتی۔ پس ان کو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں اور بات پکی کہیں۔ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ ۱۔۵ مال نہ عیش کے لئے ہے اور نہ اظہارِ فخر کے لئے۔ وہ آدمی کے لئے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام و بقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعہ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لئے کیا ہے۔ یتیم کسی سامان کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس لئے اس کے مال کی حفاظت ہو، اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتیٰ کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے، اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے۔ تاکہ معاملات کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور دہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہو سکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو، تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہئے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کر سکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لئے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔
دنیا میں کمزور کاحق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔ دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نہیں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لئے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میں نہیں ہے تو آخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لئے کھولے ورنہ خاموش رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues