Al-Risala · April 1980 · page 33

عقیدہ خدا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳

عقیدہ خدا

کائنات کا ایک خدا ہے جو اس کا خالق اور مالک ہے۔ اس خدا کے وجود کی سب سے بڑی دلیل خود وہ کائنات ہے جو ہمارے سامنے پھیلی ہوئی ہے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار رہی ہے کہ ایک عظیم خدا ہے جس نے اس کو بنایا اور جو اس کو اپنی بے پناہ طاقت سے چلا رہا ہے۔ ہم مجبور ہے کہ ہم کائنات کو مانیں اور اسی لئے ہم مجبور ہیں کہ ہم خدا کو مانیں۔ کیونکہ کائنات کو ماننا اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کے خالق و مالک کو نہ مانا جائے۔ کائنات اتنی حیرت انگیز ہے کہ وہ کسی بنانے والے کے بغیر نہیں سکتی اور اس کا نظام اتنا عجیب ہے کہ وہ کسی چلانے والے کے بغیر چل نہیں سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننے پر آدمی اسی طرح مجبور ہے جس طرح اپنے آپ کو یا کائنات کو ماننے پر۔

آپ سائیکل کے پہیہ پر ایک کنکری رکھیں اور اس کے بعد پیڈل چلا کر پہیہ کو تیزی سے گھمائیں تو کنکری دور جاکر گرے گی۔ حالاں کہ سائیکل کے پہیہ کی رفتار مشکل ہے ۲۵ میل فی گھنٹہ ہے۔ ہماری یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں وہ بھی ایک بہت بڑے پہیہ کی مانند ہے، زمین اپنے محور پر مسلسل ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ یہ رفتار سواری کے عام ہوائی جہازوں سے زیادہ ہے۔ ہم اس تیز رفتار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ گھر اور شہر بناتے ہیں۔ مگر ہمارا وہ حال نہیں ہوتا جو گھومتے ہوئے پہیہ پر رکھی ہوئی کنکری کا ہوتا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ معجزہ۔ کہا جاتا ہے کہ زمین پر ہمارے قائم رہنے کی وجہ یہ ہے کہ نیچے سے زمین بہت بڑی طاقت کے ساتھ کھینچ رہی ہے اور اوپر سے ہوا کا بھاری دباؤ ہم کو زمین کی سطح پر روکے رہتا ہے۔ یہ وہ طرفہ عمل ہم کو زمین پر تھامے ہوئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم پہیہ کی کنکری کی طرح فضا میں اڑ نہیں جاتے۔ مگر یہ جواب صرف یہ بتاتا ہے کہ ہمارے آس پاس ایک اور اس سے بھی زیادہ بڑا معجزہ موجود ہے۔ زمین میں اتنے بڑے پیمانہ پر کھینچنے کی قوت ہونا اور اس کے چاروں طرف ہوا کا پانچ سومیل موٹا غلاف مسلسل لپٹا رہنا صرف معاملہ کی حیرت ناکی کو بڑھاتا ہے، وہ کسی بھی درجہ میں اس کو کم نہیں کرتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز معجزہ ہے۔ آدمی مٹی کے اندر ایک چھوٹا سا دانہ ڈالتا ہے۔ اس کے بعد حیرت انگیز طور پر دیکھتا ہے کہ مٹی کے اندر سے ایک ہری اور سفید مولی نکلی چلی آ رہی ہے۔ وہ دوسرا دانہ ڈالتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے اندر سے میٹھا گاجر نکلا چلا آ رہا ہے۔ اسی طرح بے شمار دوسری چیزیں۔ کسی دانہ کو مٹی میں ڈالنے سے امرود نکل رہا ہے۔ کسی دانہ کو ڈالنے سے آم۔ کسی دانہ سے شیشم کا درخت نکلا چلا آ رہا ہے اور کسی دانہ سے چنار کا۔ پھر ان میں سے ہر ایک کی صورت الگ، ہر ایک کا مزہ الگ، ہر ایک کے فائدے الگ، ہر ایک کی خاصیتیں الگ۔ ایک ہی مٹی ہے اور ناقابلِ لحاظ چھوٹے چھوٹے بیج ہیں اور ان سے اتنی مختلف چیزیں اتنی مختلف صفتوں کو لئے ہوئے نکل رہی ہیں جن کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔ حیرت ناک معجزوں کی ایک پوری کائنات ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں سارے انسان مل کر ایک ذرہ کی بھی تخلیق نہیں کر سکتے وہاں ہر لمحہ بے شمار طرح کی چیزیں پیدا ہوتی چلی جارہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اتنے بڑے معجزے ہیں کہ ان کے کمالات کو انسانی زبان میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کو بتانے کے لئے ہماری لغت کے تمام الفاظ بھی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page