Al-Risala · January 1980 · page 20

جواس کی انا کو توڑ دے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۰

البقرہ ۲ تذکیر القرآن اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لائیں اور مومن کنیز بہتر ہے ایک مشرک عورت سے ، اگر چہ وہ تم کو اچھی معلوم ہو۔ اور اپنی عورتوں کو مشرک مردوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں، مومن غلام بہتر ہے ایک آزاد مشرک سے، اگر چہ وہ تم کو اچھا معلوم ہو۔ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ وہ اپنے احکام لوگوں کے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ اور وہ تم سے حیض کا حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ ایک گندگی ہے، اس میں عورتوں سے الگ رہو۔ اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ پھر جب وہ اچھی طرح پاک ہو جائیں تو اس طریقہ سے ان کے پاس جاؤ جس کا اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ اللہ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور وہ دوست رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو۔ تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں۔ پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ اور اپنے لئے آگے بھیجو اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تمھیں ضرور اس سے ملنا ہے۔ اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دو ۲۲۱ - ۲۲۳ مرد اور عورت جب نکاح کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں تو اس کا اصل مقصد شہوت رانی نہیں ہوتا بلکہ یہ اسی قسم کا ایک با مقصد تعلق ہے جو کسان اور کھیت کے درمیان ہوتا ہے۔ اس میں آدمی کو اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہئے جتنا کھیتی کا منصوبہ بنانے والا سنجیدہ ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں چند باتوں کا لحاظ ضروری ہے۔ ایک یہ کہ جوڑے کے انتخاب میں سب سے زیادہ جس چیز کو دیکھا جائے وہ ایمان ہے۔ میاں بیوی کا تعلق بے حد نازک تعلق ہے ۔ اس کے بہت سے نفسیاتی، خاندانی اور سماجی پہلو ہیں۔ اس قسم کا تعلق دو شخصوں کے درمیان اگر اعتقادی موافقت کے بغیر ہو تو بالآخر وہ دونوں میں سے کسی ایک کی بربادی کا باعث ہوگا۔ ایک مومن اپنے غیر مومن جوڑے سے اعتقادی مصالحت کر لے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کو برباد کر لیا۔ اور اگر وہ مصالحت نہ کرے تو اس کے بعد دونوں میں جو کش مکش ہوگی اس کے نتیجہ میں اس کا گھر برباد ہو جائے گا۔ دوسری چیز یہ کہ دو صنفوں کا یہ تعلق خدا کی بناوٹ کے مطابق اپنے فطری ڈھنگ پر قائم ہو۔ فطرت بھی خدا کا حکم ہے۔ قرآن کے ملفوظ احکام کی پابندی جس طرح ضروری ہے اسی طرح اس فطری نظام کی پابندی بھی ضروری ہے جو خدا نے تخلیقی طور پر ہمارے لئے بنا دیا ہے۔ تیسری چیز یہ کہ ہر مرحلہ میں آدمی کے اوپر اللہ کا خوف غالب رہے۔ وہ جو بھی رویہ اختیار کرے یہ سوچ کر کرے کہ بالا خراس کو رب العالمین کے یہاں جانا ہے جو کھلے اور چھپے ہر چیز سے باخبر ہے۔ اور اپنے لئے آگے کی زندگی کے لئے عمل صالح بھیجے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page