کائمیت گواہی دیتی ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۲
کائمیت گواہی دیتی ہے
سورہ انعام (رکوع ۴) میں منکرین کے اس مطالبہ کا ذکر ہے کہ وہ رسول سے کہتے ہیں کہ اگر تم اپنے اس وعدے میں سچے ہو کہ جو پیغام تم لائے ہو وہ خدا کی طرف سے ہے تو کوئی معجزہ دکھاؤ۔ فرمایا کہ ایمان کا مدار معجزانہ واقعات پر نہیں ہے بلکہ اس پر ہے کہ آدمی کی آنکھ کھلی ہوئی ہو اور وہ نشانیوں سے سبق لینا جانتا ہو۔ جس میں یہ صلاحیت زندہ ہو، اس کو نظر آئے گا کہ یہاں وہ "معجزہ" پہلے سے نہایت وسیع پیمانہ پر موجود ہے جس کا وہ مطالبہ کر رہا ہے۔ آخر اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ساری کائنات اپنے تمام اجزاء سمیت اس پیغام کی سچائی کی تصدیق کر رہی ہے جس کی طرف خدا کا رسول بلا رہا ہے۔ اور اگر آدمی نے اپنے آپ کو اندھا بنا رکھا ہو، وہ واقعات سے سبق لینے کی کوشش نہ کرتا ہو تو بڑے سے بڑا معجزہ بھی کارآمد نہیں ہو سکتا۔
اس سلسلے میں ان دیگر مخلوقات (چڑیوں اور جانوروں کی مثال دی گئی ہے جو اس دنیا میں انسان کے سوا پائی جاتی ہیں۔ دوسری جگہ زمین و آسمان کو بھی اس مثال میں شامل کیا گیا ہے (بنی اسرائیل 44) فرمایا کہ اگر تم غور کرو تو تمھارے لئے کافی سامان عبرت و نصیحت کا ان کے اندر موجود ہے، کیوں کہ یہ سب بھی تمھاری طرح مخلوقات ہیں۔ ان کو بھی اپنی زندگی میں ایک ڈھنگ اختیار کرنا ہے جس طرح تم کو اختیار کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ مگر تمھارے مقابلہ میں، عالم موجودات کا بے حد بڑا حصہ ہونے کے باوجود، ان کا معاملہ مکمل طور پر تم سے مختلف ہے۔ وہ ایک ہی مقررہ نقشہ پر کروڑوں برس سے چل رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی اپنے مقرر نقشہ سے ادنیٰ انحراف نہیں کرتا۔ یہ صرف انسان ہے جو ایک مقرر نقشہ کو قبول نہیں کرتا۔ ہر آد نا چاہتا ہے کہ وہ اپنی من مانی راہوں پر دوڑتا رہے۔
رسول کا مطالبہ تم سے کیا ہے؟ یہی تو ہے کہ اس دنیا کا ایک خالق و مالک ہے۔ تمھارے لئے صحیح رویہ یہ ہے کہ تم خود سری اور خود رائی کو چھوڑ دو اور اپنے خالق و مالک کے تابع ہو جاؤ۔ غور کرو تو اس دعوت کے حق ہونے پر تمام زمین و آسمان اور تمام حیوانات گواہی دے رہے ہیں (نور ۴۱) کیوں کہ جس دنیا میں تم ہو جب اس کا دنیا تر حصہ خودسری کے بجائے پابندی کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہے تو تم اس کا بے حد مختصر حصہ ہو کر اس کے خلاف رویہ اپنانے میں حق بجانب کیسے ہو سکتے ہو۔ عظیم الشان کائنات کا ہر جزء، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، وہی کر رہا ہے جو اسے کرنا چاہئے۔ سب اپنے ایک ہی متعین راستہ پر اتنی صحت کے ساتھ چلے جا رہے ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی عزیز و علیم نے ان کو بزور اس کا پابند کر رکھا ہے (یٰس ۳۸)۔ اتنی بڑی کائنات میں انسان کا الگ راستہ اختیار کرنا بتا رہا ہے کہ انحراف انسان کی طرف ہے نہ کہ بقیہ کائنات کی طرف (آل عمران ۸۳) ساری کائنات، اپنے لا تعداد اجزاء کے ساتھ انتہائی متوافق طور پر حرکت کرتی ہے، ان میں کبھی باہم ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ یہ صرف انسان ہے جو آپس میں ٹکراؤ کرتا ہے۔ تمام کائنات اپنی ناقابل قیاس سرگرمیوں کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues