Al-Risala · May 1980 · page 7

جب الناظ دل کے ٹکڑے بن جائیں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۷

جب الناظ دل کے ٹکڑے بن جائیں

آگ کا انگار کسی اعلان کے بغیر بتار ہوتا ہے کہ وہ گرم ہے۔ یہی حال سچے مبلغ کا ہے۔ آدمیں جس دین کی تبلیغ کرنا چاہتا ہے اگر وہ اس کو اپنے اندر اتار چکا ہو تو اس کا وجود سراپا تبلیغ بن جاتا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے بول رہا ہوتا ہے اور اعلان کے بغیر اس کی ہستی اعلان میں ڈھل جاتی ہے۔ اللہ کے وہ بندے جو واقعی طور پر اللہ کی اطاعت کو اپنی زندگی میں شامل کر لیتے ہیں، ان کا عمل ایسے ایسے پہلوؤں سے اپنے تبلیغی نقش چھوڑتا ہے اور ایسے ایسے مقامات سے اس کے دعوتی اثرات ظاہر ہو کر سامنے آتے ہیں جن کا پہلے سے کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں میں ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کی ایک مسلم خاتون کا واقعہ نقل کروں گا۔ یہ واقعہ ۱۳۸۳ھ کا ہے اور ذاتی طور پر میرے علم میں آیا ہے۔ مذکورہ خاتون ایک ڈاکٹر سے اپنا علاج کرا رہی تھیں ۔ ڈاکٹر چوں کہ ان کے وطن سے پانچ سو کلومیٹر کے فاصلہ پر رہتے ہیں ، اس لئے اپنے احوال ان کو بذریعہ خط لکھ کر بھیجتی تھیں۔ یہ ایک ہومو میٹھہ ڈاکٹر ہیں اور اپنے مخصوص طریق علاج کے مطابق ان کی تاکید تھی کہ حالات بتانے میں یہ بات خاص طور پر لکھی جائے کہ مرض کیسے پیدا ہوا۔ کب بڑھتا ہے اور کب گھٹتا ہے، وغیرہ وغیرہ ۔ خاتون کو جوڑوں کا درد تھا۔ جب وہ اچھا ہوا تو سر کا درد شروع ہو گیا۔ کسی علاج سے فائدہ نہیں ہوتا تھا، بالآخر انھوں نے ڈاکٹر کو لکھا :

"اپنے حالات کے سلسلے میں آپ کو کچھ لکھنا تھا تا کہ آپ مرض کی نوعیت سمجھ کر صحیح دوا تجویز کر سکیں۔ مگر کئی دن سے سوچ سوچ کر رہ جاتی تھی۔ اب چوں کہ یہ علاج کا معاملہ ہے اور طویل علالت کی وجہ سے وہ میرے لئے سخت تکلیف ہو چکا ہے ، اس لئے مجبوراً لکھتی ہوں۔ کہنا یہ ہے کہ جوڑوں کا درد جو مجھے پہلے ہو گیا تھا، وہ بفضلہ تعالیٰ آپ کے علاج سے بالکل ٹھیک ہے ، مگر اس کے بعد درد سر کی مستقل پریشانی شروع ہو گئی ہے۔ یہ درد کیسے اٹھتا ہے، یہ لکھنے یا کہنے کی بات نہیں تھی ، مگر مجبوراً لکھ رہی ہوں کہ اس کے بغیر شاید ہومیوپیتھک طریق علاج میں صحیح دوا تجویز نہیں کی جا سکتی ۔ بات یہ ہے کہ اگر میں رات کو ساری رات آرام سے بستر پر پڑی رہوں تو سر می قطعا درد نہیں ہو گا اور دن بھی خیریت سے گزر جائے گا، مگر مجھ کو راتوں کی تنہائی میں اٹھ کر نماز پڑھنا بہت پسند ہے، انھیں رات کی نمازوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آخرت کا منظر یا قبر وغیرہ کی یاد شدت سے دماغ میں آتی ہے اور اس وقت بے اختیار آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں بس انھیں آنسوؤں کا نکلنا مضر ہوتا ہے۔ جیسے ہی آنکھ سے آنسو نکلے، سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ میں نے بار بار اندازہ کیا ہے کہ آنسوؤں ہی کے نکلنے سے سر میں درد شروع ہوتا ہے۔ یہ بات کسی سے کہنے کی نہیں تھی، محض علاج کی خاطر میں نے اپنے دل پر جبر کر کے آپ کو لکھ دیا ہے، براہ کرم خط کو پڑھنے کے بعد اسے پھاڑ کر ضائع کر دیں " یہ سادہ سے چند الفاظ جو ایک معمولی پڑھی لکھی خاتون کے قلم سے محض ضرورت شدید کی بنا پر نکل گئے تھے۔ جب وہ تعلیم یافتہ ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو انھوں نے حیرت انگیز کام کیا۔ ڈاکٹر نے جواب میں لکھا : گرامی نامہ ملا۔ آپ نے درد سر کی جو کیفیت بیان کی ہے وہ میرے لئے تشخیص کے سلسلے میں بہت معاون ثابت ے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page