جب الناظ دل کے ٹکڑے بن جائیں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۸
موئی۔ چناں چہ میں نے دو تجویز کر لی ہے۔ آپ بیشتر میور۔ ۳۰ بازار سے منگو اکز کھلائیے ۔ انشاء اللہ ایک ہی خوراک میں فائدہ محسوس ہوگا۔ مگر میں یہ کہنے کے لئے آپ سے معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کے حکم کے بموجب میں آپ کے خط کو پھاڑ نہ سکا۔ کیوں کہ اس کا تعلق صرف آپ کے علاج سے نہیں ہے بلکہ خود اپنے روحانی علاج کے سلسلے میں میں نے اس کو اس قدر مؤثر پایا کہ کسی تحریر یا نصیحت کا اتنا گہرا اور فوری اثر نہ ہوا تھا۔ آپ نے خط کو پھاڑنے کی بات، اس خیال سے لکھی ہوگی کہ اس کے اظہار سے آپ کے اجر میں کمی ہوگی۔ لیکن اگر مجھ جیسے کھوئے ہوئے شخص کو کوئی تحریر حرکت میں لا سکے تو وہ بلا شبہ میرے لئے آخری دم تک مجبوب ہوگی۔ کاش میرے اندر بھی ایسی ہی کیفیت پیدا ہو جاتی اور بدعات کی تاریکی میں آخرت کی باز پرس کا ہولناک منظر دیکھنے کی توفیق ہوتی۔ اس لئے یہ اظہار محض آپ کی اجازت کے لئے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس لحاظ سے اپنے آپ کو بڑا خوش قسمت پایا کہ اپنے ایک مریض کے جسمانی علاج سے مجھے روحانی غذا ملی۔"
یہ خاتون جن کا خط میں نے اوپر نقل کیا، وہ ایک خاموش طبیعت کی خاتون ہیں اور ان کو اپنے بارے میں اس کی کا شدید احساس ہے کہ وہ تبلیغ و دعوت کا کام نہیں کر سکتیں، مگر آپ نے دیکھا کہ ان کے ایک خاموش عمل نے کس طرح ایک ایسی تبلیغ کا کام انجام دیا جو تقریروں پر بھی بھاری ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے اوپر تبلیغ و دعوت کا کام کرنے کا مسئلہ سب سے پہلے خود اپنے آپ کو بدلنے کا مسئلہ ہے۔ تبلیغ و دعوت کا کام ذاتی عمل سے نہایت گہرا رشتہ رکھتا ہے۔ جس اسلام کے ہم مبلغ ہیں، اگر وہ خود ہماری زندگیوں میں اترا ہوا ہے تو وہ بے شمار پہلوؤں سے دعوتی کام میں مؤثر ہوگا ۔ اور اگر ہماری زندگی اس سے خالی ہو تو تقریر و تحریر کی شکل میں ممکن ہے کچھ الفاظ وجود میں آ جائیں، مگر اس چیز کا وجود نہیں ہو سکتا جس کو حقیقی معنوں میں تبلیغ یاد عوت کہا جاتا ہے، دعوت و تبلیغ اور ذاتی عمل کے درمیان یہ رشتہ ان معنوں میں نہیں ہے جیسے کوئی شخص ریاضیات کا لکچرر بننا چاہتا ہو تو وہ پہلے ریاضی کی تعلیم حاصل کر کے اسے خود سیکھتا ہے تاکہ وہ ریاضی کے طلبہ کو اس کا درس دے سکے ۔ ذاتی عمل اور تبلیغ کے درمیان اس قسم کا ارادی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ ایک فطری تعلق ہے۔ ذاتی عمل کا محرک اصلاً یہ نہیں ہے کہ آدمی کامیاب مبلغ بن جائے، ایسا ذاتی عمل کبھی وجود میں نہیں آ سکتا اور اسی لئے اس قسم کا ذہن رکھنے والا شخص کبھی اچھا مبلغ بھی نہیں بن سکتا ، مومن کے اندر عمل کا داعیہ اس لئے نہیں ابھرتا کہ وہ اس کے ذریعہ سے عمدہ قسم کا مبلغ بن جائے گا، بلکہ حب خدا کا خوف اور آخرت کی باز پرس کا احساس اسے باعمل بنا دیتا ہے تو اس وقت عین اس کے نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی تبلیغ میں اس کی زندگی کے شرارے جھلکنے لگتے ہیں۔ وہ خود بہ خود ایک کامیاب مبلغ بن جاتا ہے۔ تبلیغ و دعوت میں ذاتی زندگی کے یہ اثرات مختلف پہلوؤں سے داخل ہوتے ہیں میں یہاں صرف دو چیزوں کا ذکر کروں گا۔
۱۔ سب سے پہلا اثر تو وہ ہے جس کو میں بالواسطہ تبلیغ کہوں گا۔ یہ وہ اثر ہے جو تبلیغ میں نکلنے سے پہلے بلا ارادہ اپنے تبلیغی اثرات دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ جب ایک بندۂ خدا کے دل میں اپنے رب کے سامنے حاضری کا خوف سماتا ہے تو وہ فوراً اپنی زندگی پر نظر ثانی شروع کر دیتا ہے۔ اندر سے باہر تک اس کی زندگی بدلنے لگتی ہے۔ یہ تبدیلی اگر چہ اپنی