Al-Risala · May 1980 · page 9

جب الناظ دل کے ٹکڑے بن جائیں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۹

انتہائی اور مکمل شکل میں کسی انسان کے لیے ناقابلِ مشاہدہ ہے مگر اسی کے باوجود اس کی کچھ جھلکیاں مختلف شکلوں میں لوگوں کے سامنے آتی رہتی ہیں اور دیکھنے اور سننے والوں کو متاثر کرتی ہیں۔

جب اس کو یہ احساس ستاتا ہے کہ پہلی غفلت کی زندگی میں اس نے فلاں شخص کے ساتھ ایک ایسی زیادتی کی تھی جو اس کے لیے آخرت میں باز پرس کا سبب بن سکتی ہے اور وہ اس کے سامنے معافی مانگنے کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اس کے کپکپاتے ہوئے ہونٹ سیننے والے کو بھی ہلا دیتے ہیں اور غلطی کا اظہار کرتے وقت نکل پڑنے والے آنسو کتنے سیاہ اور غبار آلود دلوں کو دھو کر صاف کر دیتے ہیں۔ جب وہ غلط طریقے سے حاصل کئے ہوئے ایک مال کو اس اندیشے کی بنا پر واپس کرنے جاتا ہے کہ آخرت میں اس کے اصل مالک کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ اس کے بدلے غاصب کا سارا عمل لے لے اور اسے بالکل خالی چھوڑ دے، تو وہ ایک شخص کو صرف اس کا مال ہی نہیں لوٹاتا، بلکہ اس کے ساتھ اس کو ایمان کی وہ دولت بھی واپس دلاتا ہے جو غفلت میں شیطان اس سے اچک لے گیا تھا ۔ جب ایک واقعی نمازی سجدے میں ہمہ تن پڑا ہوا خدا سے اس طرح سرگوشی کر رہا ہوتا ہے کہ بقیہ دنیا کی اسے خبر بھی نہیں ہوتی، عین اس وقت اس کی اس ہیبت در فنائیت کو دیکھ کر کسی بندہ خدا کا دل اندر ہی اندر اپنے رب کے آگے جھک جاتا ہے۔ وہ بے اختیار چاہنے لگتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح اپنے خدا کو پا کر اس سے لپٹ جائے۔ جب زندگی کے عملی معاملات میں لوگوں کو اس سے سابقہ پیش آتا ہے اور لوگ اس کی سچائی، پاکیزگی، دیانت داری اور ایفائے عہد کا تجربہ کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بالکل مجبور پاتے ہیں کہ اس دین کی قدر کریں جس کے اندر یہ طاقت ہے کہ ایسے عمدہ انسان تیار کرے، حتی کہ کتنے غیر مسلموں کو اس طرح کے تجربات سے اسلام کی توفیق ملتی ہے اور کتنی غافل روحوں کو دوبارہ اسلام کا شعور نصیب ہوتا ہے۔ دو پتھر باہم ملیں تو کوئی خاص بات نہیں ہوگی ۔ لیکن بجلی کا ایک تار جب دوسرے تار سے مس کرتا ہے تو فوراً سادہ تار میں برقی رو دوڑنے لگتی ہے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ ایک اچھے انسان کی خصوصیات دوسرے انسان کے لیے برقی رو کی حیثیت رکھتی ہیں، انسان کے اندر فطری طور پر یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اچھی چیز سے اثر قبول کرتا ہے اور خدا پرستی کی چیزیں اس کے دل کی آواز بن کر اس کی نفسیات میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ جب ایک شخص کوئی عمدہ عمل کرتا ہے یا اس کی زندگی سے خدا پرستی کا کوئی نور چھن کر لوگوں کے سامنے آ جاتا ہے تو اس وقت دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان اسی طرح اس کو قبول کرتے ہیں جیسے بجلی کے تار سے کوئی دوسرا تار برقی رو قبول کرتا ہے ۔ اس وقت فطرت کے ایک ان دیکھے تار پر ایک طرف کے جذبات دوسری طرف منتقل ہونے لگتے ہیں ، ایک کی ہلچل دوسرے کو لرزہ بر اندام کر دیتی ہے، ایک کی روشنی سے دوسرے کا باطن چمکنے لگتا ہے۔ یہ ایک بالکل فطری عمل ہے جو لازمی طور پر اس وقت وجود میں آتا ہے جب کسی کے اندر ایمان و اسلام کا شعلہ بھڑکے اور اس کے گرد و پیش ایسے لوگ موجود ہوں جن کی فطرت سنچ نہ ہو گئی ہو اور انسانی اوصاف ابھی باقی ہوں ۔

۲۔ دوسری چیز وہ ہے جو براہِ راست تبلیغ میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ الفاظ جن کے ذریعہ سے ہم اپنی بات دوسرے تک پہنچاتے ہیں وہ کسی مفہوم کا مجرد اظہار نہیں ہیں ۔ جیسے پانچ اور دس کسی چیز کے عدد کا مجرد اظہار ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page