Al-Risala · May 1980 · page 10

جب الناظ دل کے ٹکڑے بن جائیں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۰

بلکہ اسی کے ساتھ ان کے انو مختلف قسم کی کیفیات پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الفاظ اور مفہوم کے اعتر سے دو بالکل یکساں کلام اپنی کیفیت اور اثر کے اعتبار سے بے حد مختلف ہو جاتے ہیں۔ اس فرق کو واضح کرنے کے لئے میں یہاں دو شعر نقل کرتا ہوں :- خرابات عالم میں ہر چار جانب چمکتے ہوئے جام ومینا دھرے ہیں ضرورت اسی کی ہے اے اہلِ محفل کوئی با ہاتھ اس کو بڑھا کر اُٹھالے یہ مے خانہ ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں مِینا اسی کا ہے یہ دونوں اشعار مفہوم کے اعتبار سے بالکل ہم معنی ہیں، مگر الفاظ اور دروبست کے فرق نے دونوں میں زمین آسمان کا فرق پیدا کر دیا۔ یہ فرق کی ابتدائی قسم ہے جس کو ہم ادبی فرق کہہ سکتے ہیں۔ اور وہ قدرتِ کلام اور فنی ذوق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ دوسرا فرق وہ ہے جو صاحبِ کلام کی اپنی اندرونی کیفیات کے اعتبار سے وجود میں آتا ہے۔ اگر آپ ایک واقعہ سے متاثر ہوں تو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہ صرف آپ کا لب و لہجہ بدل جائے گا۔ بلکہ آپ کی زبان سے ایسے ایسے الفاظ نکلیں گے جو آپ کی اندرونی کیفیات کی ترجمانی کر رہے ہوں ۔ جن میں آپ کا تاثر اسی طرح بھرامبو جیسے کسی تازہ پھل میں اس کا رس بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ متاثر نہ ہوں تو آپ کا بیان واقعہ محض اخباری رپورٹ معلوم ہوگا۔ ذاتی طور پر ایمان در اسلام کی زندگی کو پالینا آدمی کے تبلیغی کام میں یہی دوسری خصوصیت پیدا کرتا ہے۔ وہ اس کے کلام کو مجرد کلام کے مقام سے اٹھا کر مؤثر کلام بنا دیتا ہے۔ وہ اس میں شدتِ جذبات کا رس بھرتا ہے، وہ ننگے الفاظ کو کیفیات کا لباس اڑھاتا ہے۔ وہ حروف کے مجموعوں کو دل کے ٹکڑے بنا دیتا ہے وہ کلام کو خوشبو فروش کا معطر اشتہار بنا دیتا ہے جو صرف پڑھا نہیں جاتا، بلکہ اپنی خوشبو بھی مخاطب تک پہنچا دیتا ہے۔

جس کے اپنے اندر اسلام اترا ہوا نہ ہو، اس کے کلام میں بظاہر تمام شرعی باتیں موجود ہوں گی مگر وہ بس الفاظ کا ایک مجموعہ ہوگا جس میں دل کی بوسہی ہوئی نہیں ہوگی ۔ وہ ایک سپاٹ کلام ہو گا جو خود اپنی حقیقتوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب ایک ایسا شخص ہوتا ہے جس نے فی الواقع دین کو پا لیا ہو تو اس کی زبان اور اس کے الفاظ میں حیرت انگیز خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ جب لوگوں کو آخرت سے ڈراتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ اسرافیل صور لئے کھڑے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کس وقت حکم ہو اور پھونک مار کر دنیا کو تہ و بالا کر دیں۔ اس کے بے قرار جملے صاف بتاتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ محض کچھ الفاظ کی تکرار نہیں ہے بلکہ وہ ان ہیجان خیز واقعات سے براہ راست آشنا ہو کر بول رہا ہے۔ اس کی تحریروں میں دل کا سوز گھلاہوا ہوتا ہے، اس کے الفاظ اندرونی تپش کی آنچ سے جل رہے ہوتے ہیں، اس کے ہر بول میں حقیقت کی خوشبو لپٹی ہوئی ہوتی ہے، اس کی سطروں کے درمیان جگہ جگہ نظر آتا ہے کہ آنسوؤں نے ٹپک کر لکھی ہوئی سیاہی کا رنگ بدل دیا ہے۔ یہ چیزیں اس کے کلام کو حقیقت بیانی کے ایک ایسے مقام پر پہنچا دیتی ہیں جہاں دیکھنے والوں کو نظر آتا ہے گویا حقیقت خود مجسم بے نقاب ہو کر سامنے آگئی ہے حقیقت یہ ہے کہ تبلیغ و دعوت کے کام کو مؤثر بنانے کے لئے خارج میں کوئی ہتھیار موجود نہیں ہے اس کی صرف ایک ہی تدبیر ہے۔ — اپنے اندرون کو مسلمان بناؤ، اسی وقت تم اپنے بیرون کو مسلمان بنا سکو گے (الفرقان محرم ۴۴ ۱۳ھ)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page