Al-Risala · May 1980 · page 11

ایمان کی برکتیں کس کو ملتی ہیں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۱

ایمان کی برکتیں کس کو ملتی ہیں

ذاقَ طعم الایمان من رضی باللہ رباً و بمحمدٍ رسولاً ایمان کا مزہ چکھا اس شخص نے جو راضی ہو گیا اللہ کو رب بنانے وبالاسلام دینا ثلاث من كن فیہ وجد حلاوۃ الایمان، من ایمان کی مٹھاس پائی اس شخص نے جس کے اندر تین باتیں کان اللہ ورسولہ احب الیہ مما سواھما ومن ہوں ، جس کے لئے اللہ اور رسول تمام دوسری چیزوں سے احب عبدا لا یحبہ الا للہ ومن یکرہ ان یعود زیادہ محبوب ہوں جو کسی شخص سے صرف اللہ کے لئے محبت فی الکفر بعد اذ انقذہ اللہ کما یکرہ ان یلقی کرے، جو کفر سے نکلنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف لوٹنے کو اسی فی النار (بخاری)

طرح ناپسند کرے جس طرح وہ آگ میں گرنے کو ناپسند کرے۔

مومن بنا کیا ہے یہ دنیا میں رہ کر آخرت پسندانہ زندگی اختیار کرنا ہے، یہ نفس اور شیطان کے ماحول میں رہتے ہوئے خدا والا بن کر رہنا ہے، یہ دکھائی دینے والی چیزوں میں گھر کر نہ دکھائی دینے والی چیزوں کا چاہنے والا بننا ہے۔ یہ ایک ممشکل فیصلہ ہے اور کسی شخص کو اس شکل فیصلہ پر قائم رکھنے کی ضامن صرف دو چیزیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ایمان اس کے لئے ذائقہ (مزہ) کی چیز بن گیا ہو جس طرح ایک لذیذ کھانا آدمی کے لئے ذائقہ کی چیز ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ایمان اس کے لئے ایک محبت کا معاملہ بن جائے جس طرح عزیز بیٹے سے تعلق کسی باپ کے لئے محبت کا معاملہ ہوتا ہے۔ کوئی چیز جب آدمی کے لئے مزہ کی چیز بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ اس کا تعلق ذاتی مفاد کی حد تک وابستہ ہو گیا ہے۔ جس چیز میں آدمی مزہ پانے لگے اس کو وہ کبھی نہیں چھوڑتا ، وہ ہر قیمت پر اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ چیز جس سے آدمی کی روح کو غذا ملے، جس سے اس کے دل کو تسکین حاصل ہوتی ہو، جو اس کے دماغ کو فکری یکسوئی عطا کرتی ہو، جس کے کھونے سے آدمی خالی ہو جائے اور جس کے پانے سے وہ اپنے آپ کو بھر پور محسوس کرے۔ ایسی چیز آدمی کے لئے اسی طرح ضروری ہو جاتی ہے جیسے اس کا اپنا وجود۔ ایمان کی برکتیں آدمی کو اسی وقت ملتی ہیں جب ایمان اس کے لئے اس قسم کا ذائقہ والا ایمان بن جائے۔

باہر کے کسی آدمی سے آپ کو تکلیف پہنچ جائے تو آپ کے دل میں اس کے خلاف مستقل نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر اپنے بیٹے یا بیٹی سے تکلیف پہنچتی ہے تو وقتی احساس کے بعد آپ اس کو بھول جاتے ہیں ۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ باہر کے کسی آدمی سے آپ کا تعلق محض رسمی تعلق ہے جب کہ بیٹے اور بیٹی سے آپ کا تعلق محبت کا تعلق ہے۔ رسمی تعلق ہو تو شکایت اور اختلاف پیدا ہوتے ہی تعلق میں فرق آجاتا ہے۔ مگر کسی کے ساتھ محبت کا تعلق پیدا ہو جائے تو شکایت اور اختلاف کے باوجود تعلق میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ محبت کا جذبہ کسی تعلق کو ایسی سطح پر پہنچا دیتا ہے جہاں تمام مخالف اسباب حذف ہو جاتے ہیں اور صرف موافق اسباب باقی رہتے ہیں۔ اللہ اور رسول سے اسی قسم کا محبت کا تعلق مطلوب ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو آدمی امتحان کے کٹھن حالات میں خدا پرستی پر قائم نہیں رہ سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page